Al-Risala · January 1995 · page 10

امامتِ عالم

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۰

امامتِ عالم

امتِ محمدی سے پہلے بنی اسرائیل کو خدا کی کتاب کے حامل کی حیثیت حاصل تھی۔ قرآن میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اللہ نے ان میں امام بنائے جو اللہ کے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے (وجعلنا منهم ائمة يهدون بأمرنا لما صبروا) السجدة ۲۴ اس آیت سے معلوم ہوا کہ امامتِ عالم کا تعلق صبر سے ہے۔ جو گروہ صبر کا ثبوت دیتا ہے وہی اللہ کے نزدیک اس کا مستحق قرار پاتا ہے کہ اس کو قوموں کے اوپر امام بنایا جائے ۔ بے صبر لوگوں کو کبھی امامت عالم کا مقام حاصل نہیں ہوتا۔ صبر بلند کرداری کا نام ہے، اور بلند کردار لوگ ہی قوموں کے امام بنائے جاتے ہیں۔ امامت کا تعلق صبر سے کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر وہ عمل ہے جو آدمی کو اخلاقی اعتبار سے دوسروں سے اونچا اٹھاتا ہے، اور یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ لوگ کسی ایسے شخص ہی کو امام تسلیم کرتے ہیں جو اپنے کردار میں انھیں اپنے سے اونچا دکھائی دے۔ جو شخص لوگوں کو باعتبارِ کردار اپنے برابر دکھائی دے، اس کو وہ کبھی اپنا امام ماننے کے لیے تیار نہیں ہو سکتے۔

صابر انسان ان جذبات کو دباتا ہے جو اس کو برابری کے اخلاق کی طرف لے جانے والے ہیں۔ وہ ہر معاملہ میں بلند اخلاقی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اس وقت اصول کے لیے جیتا ہے جب کہ دوسرے لوگ مفاد کے لیے جی رہے ہوتے ہیں۔ وہ اس وقت انصاف کی حمایت کرتا ہے جب کہ دوسرے لوگ قوم کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ وہ اس وقت برداشت کر لیتا ہے جب کہ دوسرے لوگ انتقام پر اتر آتے ہیں۔

صابر آدمی اس وقت اپنے آپ کو محرومی پر راضی کرلیتا ہے جب کہ دوسرے لوگ پانے کے لیے دوڑتے ہیں۔ وہ اس وقت حق کے لیے قربان ہو جاتا ہے جب کہ دوسرے لوگ صرف اپنی ذات کے لیے قربانی دے رہے ہوتے ہیں۔ وہ اس وقت اپنے کو پیچھے کر لیتا ہے جب کہ دوسرے لوگ آگے کی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے دوڑ لگا رہے ہوتے ہیں۔

صبر آدمی کے اندر یہی اونچے اوصاف پیدا کرتا ہے۔ اور جو شخص ان اونچے اوصاف کا مالک ہو وہی لوگوں کو اس قابل نظر آتا ہے کہ وہ ان کے اوپر امام بن کر کھڑا ہوسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page