قناعت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۹
میں لگارہے۔ جہاں تک نتیجہ کا تعلق ہے، وہ صرف اس حد تک اس کا طالب بنے جب تک اس کا ذہنی سکون سہمک نہ ہو۔ جب نتیجہ کی خواہش میں اس کا ذہنی سکون چھننے لگے تو اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ قناعت کے دائرہ سے نکل کر ہوس کے دائرہ میں داخل ہو گیا ہے۔ اور ہوس بہر حال قابل ترک ہے۔
قانع آدمی کے لیے پیسہ برائے ضرورت ہوتا ہے اور غیر قانع آدمی کے لیے پیسہ برائے پیسہ۔ قانع آدمی اس وقت مطمئن ہو جاتا ہے جب کہ اس کو بقدر ضرورت پیسہ مل جائے۔ مگر غیر قانع آدمی کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کی پیسہ کی طلب کسی بھی حد پر ختم نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ مزید اضافہ کے ساتھ جاری رہتی ہے۔
اس قناعت کا تعلق صرف پیسہ کے معاملہ سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر معاملہ سے ہے۔ ایک شخص سروس کر رہا ہے۔ ایک شخص لیڈری کے میدان میں ہے۔ ایک شخص حکومت کے عہدہ تک پہنچ گیا ہے۔ غرض آدمی جس شعبہ میں بھی ہو، ہر جگہ اس کے لیے ایک طریقہ طے ہوئے پر قناعت کرنے کا ہے اور دوسرا طریقہ نہ طے ہوئے کی طرف دوڑنے کا۔
قناعت کا طریقہ یہ ہے کہ حالات اس کو جس درجہ تک پہنچا دیں اس پر راضی ہو کر وہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں لگ جائے۔ وہ ملی ہوئی حیثیت پر راضی رہے۔ اگر معمول کے مطابق اس کو مزید ترقی ملے تو اس کو وہ خوشی کے ساتھ قبول کر لے، اور اگر مزید ترقی کے مواقع نہ پیدا ہوں تو جہاں اس کو حالات نے پہنچایا ہے اس کو وہ دل کی رضامندی کے ساتھ قبول کرلے۔
پیاس آدمی کی ایک فطری ضرورت ہے۔ مگر ایک شخص وہ ہے جو صحت مند پیاسا ہو ۔ دوسرا آدمی وہ ہے جو پیاس کی بیماری (جوع البقر) میں مبتلا ہو جائے ۔ صحت مند پیاسا صرف بقدر ضرورت پانی کا طالب ہوتا ہے۔ بقدر ضرورت پانی پینے کے بعد وہ بالکل مطمئن ہو جاتا ہے۔ مگر جو شخص پیاس کی بیماری میں مبتلا ہو جائے، وہ ہر وقت پانی کا طالب بنا رہے گا۔ پانی کی کوئی بھی مقدار اس کو مطمئن کرنے والی نہیں۔
قانع آدمی اس دنیا میں صحت مند پیاسے کی مانند ہے، اور غیر قانع آدمی اس دنیا میں بیمار پیاسے کی مانند۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues