بچوں کی تربیت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۱
بچوں کی تربیت
ایک صاحب کر ان کے پڑوسی نے نہایت سخت بات کہہ دی ۔ وہ صاحب اس کو سن کو چپ چاپ اپنے گھر میں چلے آئے ۔ انھوں نے کہنے والے کو کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے لڑکے کو جب اس کی خبر ہوئی تو وہ ت بگڑا ۔ اس نے کہا کہ اس شخص کی کیسے ہمت ہوئی کہ وہ میرے باپ کو اس طرح ذلیل کرے ۔ میں اس کو سبق دوں گا تاکہ آئندہ وہ کبھی ایسی ہمت نہ کرے ۔
باپ نے بیٹے کو ٹھنڈا کیا ۔ باپ نے کہا کہ آخر اس نے ایک لفظ ہی تو کہا ہے ۔ اس نے مجھے کوئی پتھر تو نہیں مارا ۔ پھر اس میں ہمارا کیا نقصان ہے ۔ اس نے اگر اپنی زبان خراب کی ہے تو ہم اپنی زبان کیوں خراب کریں ۔ باپ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم اس کو بھلا دو اور اپنے کام میں لگ جاؤ ۔ بیٹا اس واقعہ کو " یاد " کے خانہ میں رکھنا چاہتا تھا ، باپ نے اس کو " بھول " کے خانہ میں ڈال دیا ۔ جو واقعہ عام حالات میں غصہ اور انتقام کا موضوع بنتا ، وہ صبر اور برداشت کا موضوع بن گیا ۔ کچھ دنوں بعد خود پڑوسی کو شرمندگی ہوئی ، بہ اس نے آکر اپنی گستاخی کی معافی مانگی اور آئندہ کے لیے پہلے سے زیادہ بہتر ہو گیا ۔
باپ اگر اپنے بیٹے کے اندر انتقام کی نفسیات ابھارتا تو وہ برائی کا ایجنٹ بن جاتا ۔ مگر باپ نے جب اپنے بیٹے کو بھلانے اور برداشت کرنے کے راستہ پر ڈالا تو وہ ان کے لیے نیکی اور سچائی کا رہنما ہو گیا ۔ قرآن کے لفظوں میں وہ متقیوں کا امام بن گیا (الفرقان (۷۴)
اسی کا نام بچوں کی تربیت ہے۔ بچوں کی تربیت یہ نہیں ہے کہ ایک وقت مقرر کر کے انہیں بٹھایا جائے اور تحریر یا تقریر کی صورت میں انھیں اصلاحی باتیں سنائی جائیں ۔ اصل تربیت یہ ہے کہ گھر کے اندر جب عملی طور پر وہ مواقع پیدا ہوں جہاں ایک راستہ صحیح سمت میں جاتا ہو اور دوسرا راستہ غلط سمت میں ۔ ایسے مواقع پر جذبات کو برداشت کر کے اور ذاتی نقصان اٹھا کر گھر والوں کو رہنمائی دی جائے ۔ ان کے ذہن کو ایک رخ سے دوسرے رخ کی طرف پھیر دیا جائے ۔
تربیت پیداشدہ حالات کے درمیان رہنمائی کے ذریعہ کی جاتی ہے نہ کہ محبس د قدم کی خطا خوانی کے ذریعہ ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues