Al-Risala · January 1995 · page 12

بے قیمت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۲

بے قیمت

انسان خدا کی دنیا میں ہے۔ مگر وہ خدا کی دنیا میں خدا کے خلاف طریقہ اختیار کرتا ہے۔ حالاں کہ اس سے بڑا اور کوئی جرم نہیں۔ اس سے بڑی اور کوئی سرکشی نہیں۔

خدا اپنے تمام بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ وہ اس کے بندے بن کر رہیں۔ مگر انسان دوسری چیزوں کو اپنا معبود بناتا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو الٰہ کا درجہ دیدیتا ہے۔ حالاں کہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی خدا نے کبھی اجازت نہیں دی۔

خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کمزور کی رعایت کرتا ہے۔ مگر انسان جس شخص کو کمزور دیکھتا ہے اس کو ذلیل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ خدا اپنے بندوں کی غلطیوں کو معاف کرتا ہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ کوئی شخص اس کے حق میں ایک زیادتی کر دے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کو آخری حد تک تباہ و برباد کر ڈالے۔ خدا اگر کسی بندے کی غلطی پر اس کو سزا دیتا ہے تو وہ اتنی ہی سزا دیتا ہے جتنی کہ اس نے غلطی کی ہے۔ مگر انسان یہ کرتا ہے کہ وہ جس سے بگڑ جاتا ہے، پھر وہ یہ نہیں دیکھتا کہ آدمی نے کتنی غلطی کی ہے۔ وہ ایسا نہیں کرتا - کہ آدمی نے جتنی غلطی کی ہے اتنی ہی اسے سزا دے۔ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ جتنا اس کے بس میں ہے اتنی سزا اسے دے ڈالے۔

یہ انسان کی سرکشی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات سب سے زیادہ ناپسند ہے کہ اس کی دنیا میں کوئی آدمی سرکشی کرے۔ آج امتحان کی مصلحت کی بنا پر آدمی کو سرکشی کا یہ موقع ملا ہوا ہے۔ مگر جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو سرکشی کرنے والے اس سے بھی زیادہ بے قیمت ہو جائیں گے جتنا کوئی مکھی یا مچھر۔ موجودہ دنیا میں کوئی چیز کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں۔ خواہ وہ صحت و طاقت ہو یا دولت و اقتدار ہو یا عہدہ و منصب ہو۔ ہر چیز خدا کی ہے۔ کسی شخص کے پاس جو چیز ہے وہ اس کے لیے آزمائش کا پرچہ ہے۔ وہ اس کے پاس آزمائش کے طور پر ہے نہ کہ استحقاق کے طور پر۔

اس حقیقت کو جاننا ہی سب سے بڑی دانائی ہے۔ کیوں کہ جو آدمی اس حقیقت کو جانے گا وہ صراط مستقیم پر رہے گا، اور جو آدمی اس حقیقت کو نہ جانے وہ صراط مستقیم سے بھٹک جائے گا۔ جو آدمی صراطِ مستقیم سے بھٹک جائے اس کے لیے ابدی ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page