Al-Risala · March 1995 · page 9

تکرار کی حکمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۹

تکرار کی حکمت

قرآن میں ہے کہ اے مومنو، اللہ کا ذکر کثیر کرو (الاحزاب ۴) حدیث میں ان لوگوں کی فضیلت آئی ہے جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں (مشکوٰۃ المصابیح ۲/ ۶۹۸) بہت سے الفاظ یا کلمات کے بارہ میں عدد کی صراحت کے ساتھ اس کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

من قال سبحان الله وبحمدہ فی یوم مائۃ جو شخص دن میں سو بار کہے کہ سبحان اللہ وبحمدہ مرۃ حطت خطایاہ وان کانت مثل تو اس کی سب خطائیں مٹ جائیں گی خواہ وہ سمندر زبد البحر (متفق علیہ)

کے جھاگ کے برابر ہوں ۔

الفاظ یا کلمات کی اس تکرار میں اصل اہمیت تکرار کی نہیں بلکہ نتیجہ تکرار کی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سات یا دس یا سو کی گنتی میں کوئی پُر اسرار خاصیت چھپی ہوئی ہے۔ اور اگر اس مقرر عدد کے ساتھ اس کو دہرا دیجئے تو محض عدد پورا ہونے کی بنا پر وہ عظیم ثواب کا باعث بن جائے گا۔ اس کا مطلب در اصل یہ ہے کہ کسی خاص کلمہ کو بار بار کہنے سے اس کے موافق کیفیت ابھرے گی۔ یہ کیفیت آدمی کے اندر روحانیت اور ربانیت پیدا کرے گی۔ پھر اس حالت میں وہ جو دعا یا عبادت کرے گا وہ اتنی خالص ہوگی کہ فرشتے اس کو لینے کے لئے دوڑیں گے۔ ایسا عمل اپنی کیفی خصوصیات کی بنا پر سیدھے خدا تک پہنچ جائے گا اور مقبول بارگاہ ہوگا۔

جب آدمی دیر تک قرآن کی تلاوت کرے۔ وہ کثرت سے حمد و تسبیح کے کلمات کو اپنی زبان سے دہرائے۔ وہ فرض نمازوں کے علاوہ مزید سنت و نوافل میں مشغول ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے گرد ایک روحانی ماحول بنتا ہے۔ اس کا ذہن دینی رخ پر یکسو ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر ربانی کیفیات ابھر آتی ہیں۔ یہی کیفیت یا روحانیت دین کا اصل مطلوب ہے۔ اس کیفیت کے ساتھ جو زندگی گزرے وہی سچے مومن کی زندگی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ابدی جنتوں میں داخل کیا جائے۔ یہ فائدہ تکرار کے کیفی نتیجہ کا ہے نہ کہ مجرد تکرار الفاظ کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page