Al-Risala · March 1995 · page 10

انسانی المیہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۱۰

انسانی المیہ

ابا ایبان فروری ۱۹۱۵ میں پیدا ہوا۔ وہ ایک صہیونی لیڈر ہے۔ تاہم اس کا ایک قول زندگی کی ایک حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ افراد اور قومیں کوئی سنجیدہ کام صرف اس وقت کرتے ہیں جب کہ دوسرے انتخابات کو انہوں نے کھو دیا ہو:

Men and nations do the sensible thing only after they have exhausted the other options. Abba Eban, Liberty's Nation. کہنے والے یہ بات دنیا کے بارہ میں کہی ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ کوئی شخص ہو یا کوئی گروہ وہ اس وقت تک سنجیدگی اور معقولیت کو اختیار کرنے پر راضی نہیں ہوتا جب تک اس کے لئے غیر سنجیدہ اور غیر معقول رویہ اختیار کرنے کا موقع سرے سے چھن گیا ہو۔ دنیا میں ہر طرف انفرادی اور اجتماعی سطح پر ظلم، دھاندلی، بے انصافی، بد دیانتی اور جھوٹ کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگوں کو اپنے حالات کے اعتبار سے ایسا کرنے کا موقع حاصل ہے۔ کوئی شخص یا گروہ اس سے اسی وقت دست بردار ہوتا ہے جب کہ اس قسم کی روش کا موقع اس کے لئے باقی نہ رہے۔

یہی واقعہ زیادہ بڑے پیمانے پر قیامت کے دن پیش آئے گا۔ دنیا میں امتحان کی بنا پر ہر شخص کو آزادی ہے۔ اس لئے اس کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ چاہے تو حق کا انکار کر دے۔ وہ چاہے تو حق کو اس طرح نظر انداز کر دے گویا کہ اس کا وجود ہی نہیں۔ مگر قیامت کے دن یہ موقع آخری حد تک ختم ہو جائے گا۔

لوگ اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب کہ انھیں مجبورانہ اعتراف کرنا پڑے، حالاں کہ مجبورانہ اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں۔ لوگ اس آنے والے دن کے منتظر ہیں جب کہ انھیں حق کی ادائیگی پر مجبور کر دیا جائے، حالانکہ مجبورانہ ادائیگی کی کوئی اہمیت نہیں۔ لوگ اس دن کے منتظر ہیں جب کہ ان کے لئے انصاف کے سوا کوئی اور چارہ باقی نہ رہے۔ مگر مجبورانہ انصاف ذلت کا ایک واقعہ ہے نہ کہ عزت کا واقعہ۔ یہ ایک ایسا انسانی المیہ ہے جس سے بڑا المیہ اور کوئی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page