رمضان کا روزہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۱۶
رمضان کے مہینہ کو ایک حدیث میں صبر کا مہینہ ( شہر الصبر) کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کا اتنا بڑا درجہ ئیوں ہے کہ اس پر بے حساب اجر کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ صبر کی عبادت ہے۔ روزہ صبر کا عمل ہے۔ روزہ میں کھانا اور پینا چھوڑ کر آدمی علامتی طور پر یہ عہد کرتا ہے کہ دنیا میں وہ صبر کا طریقہ اختیار کرے گا۔ وہ ہر حال میں اللہ کے حکموں پر عمل کرے گا، خواہ اس کے لئے اسے صبر و برداشت کے مرحلہ سے گزرنا پڑے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے صبر کرنے والے بے حساب اجر پائیں گے ( انما يوفي الصابرون اجرهم بغير حساب ، الزمر ، ۱۰)، یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام اعمال میں صبر کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ جس خدا کی حکم کو انجام دینے کے لئے آدمی کو صبر کے مرحلہ سے گزرنا پڑے ، وہ عمل اللہ کی نظر میں اتنا زیادہ محبوب ہو جاتا ہے کہ اس پر بے حساب انعام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔
روزہ کی خاص اہمیت اسی اعتبار سے ہے۔ روزہ دراصل صبر کی تربیت ہے۔ روزہ کی عبادت آدمی کو اس بات کے لئے تیار کرتی ہے کہ وہ اپنی خواہش کو پا کرہ اللہ کے حکم پر عمل کرے۔ وہ اپنی ضرورتوں کو روک کر اللہ کی راہ میں چلے۔ وہ اپنے ذاتی تقاضوں کو نظر انداز کر کے اللہ کے دین کے تقاضے پورے کرے۔ روزہ چوں کہ صبر جیسی عظیم عبادت کی تربیت ہے، اس لئے روزہ کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔
روزہ کے اسی خاص پہلو کی بنا پر حدیث میں فرمایا گیا کہ روزہ دار کو چاہئے کہ اگر کوئی آدمی اس کو برا کہے تو وہ خود بھی اس کو برا نہ کہنے لگے۔ بلکہ اس کے اندر یہ احساس جاگنا چاہئے کہ میں تو روزہ رکھے ہوئے ہوں۔ میں نے تو اپنے آپ کو صبر اور برداشت کے تربیتی کورس میں داخل کر رکھا ہے۔ ایسی حالت میں اگر میں بے برداشت ہو کر جوابی کارروائی کروں تو گویا کہ میں نے اپنا روزہ توڑ دیا، میں نے روزہ کے اصل مقصد کو باطل کر دیا۔
روزہ کا بلاشبہ بہت بڑا ثواب ہے۔ مگر یہ بڑا ثواب اس شخص کے لئے ہے جس کا روزہ صبر کا روزہ بن جائے۔ جو روزے سے یہ سبق لے کہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے مجھے ناخوشگوار باتوں کو برداشت کرنا ہے۔ لوگوں کے کڑوے بول کا جواب مجھے میٹھے بول سے دینا ہے۔ (ایڈوانس ۱۲ مارچ ۱۹۶۵ء)
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues