انقلابی فیصلہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۳
انقلابی فیصلہ
حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں جب قرآن جمع کیا گیا تو آپ نے حکم دیا کہ جس کے پاس قرآن کا کوئی لکھا ہوا حصہ ہو، وہ اس کو لے آئے۔ چنانچہ ایک بڑا ڈھیر جمع ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت زید بن ثابت انصاری نے دوسرے حافظوں کی مدد سے قرآن کو ایک مصحف کی شکل میں تحریر کیا۔
زید بن ثابت کا یہ مصحف قریش کے لہجہ پر تھا، جب کہ جمع شدہ ٹکڑوں میں کوئی ٹکڑا قریش کے لہجہ پر تھا اور کوئی دوسرے قبائل کے لہجہ پر۔ مذکورہ قرآن جب مرتب ہو گیا تو صحابہ کی متفقہ رائے کے مطابق، تمام بچے ہوئے ٹکڑے جلا دیئے گئے۔ یہی واقعہ دوبارہ خلیفہ سوم حضرت عثمان کے زمانہ میں ہوا جب کہ مصحف صدیقی کے مطابق نسخے تیار کیے گئے، اور بقیہ لوگوں کے بطور خود لکھے ہوئے تمام مصحف صحابہ کی رائے سے جلا کر ختم کر دیے گئے ۔
وہ لوگ جو کبھی پتھروں کے تقدس کے قائل تھے ، ان کے لیے کلام الہی کی تختیوں کو نذر آتش کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ ایک عظیم الشان انقلابی فیصلہ تھا جو حقائق کے اعلیٰ شعور کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔
اصل یہ ہے کہ اصحاب رسول جو مختلف عرب قبائل سے تعلق رکھتے تھے، فطری طور پر انھوں نے اپنے اپنے لہجہ پر قرآن کی آیتیں لکھ رکھی تھیں۔ اگر ان کے لکھے ہوئے یہ مختلف اوراق اور ٹکڑے جلائے نہ جاتے تو بعد کو ہر ٹکڑا ایک مستقل فتنه بن جاتا۔ کیوں کہ ہر ٹکڑا اور ہر ورق کسی صحابی کی طرف منسوب ہو کر مقدس بن جاتا۔ اس کے بعد متنِ قرآن کے بارہ میں اتنا اختلاف پیدا ہوتا کہ نہ قرآن محفوظ رہتا اور نہ امت مسلمہ۔
ان ٹکڑوں کو اگر زمین میں گاڑ دیا جاتا یا دریا میں ڈال دیا جاتا تب بھی لوگ کسی نہ کسی طرح ان کو حاصل کر لیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جلانے کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر ان کو ختم کرنے کی نہ تھی۔ اس انقلابی فیصلہ تک پہنچنے کے لیے وہ برتر فکر درکار تھی جو جذباتی احترام سے اوپر اٹھ کر حقیقت کے تقاضوں کو دیکھ لیتی ہے۔ اصحابِ رسول کو ان کے ایمان نے یہی انقلابی فکر عطا کی تھی۔ اور یہی انقلابی فکر ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ کے مقام پر کھڑا کرتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues