رمضان کا روزہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۱۷
لوگوں کی طرف س۷ اشتعال انگیزی کے واقعات ہوں تب بھی مجھے اپنے آپ کو مشتعل ہونے سے بچانا ہے۔ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں کو اللہ کے خانہ میں ڈالتے ہوئے مجھے ہر ایک کے ساتھ ہر حال میں اچھا سلوک کرنا ہے۔
خدا کے حکم کی ایک تعمیل وہ ہے جو معمول کے حالات میں کی جائے۔ اس کی دوسری تعمیل وہ ہے جو غیر معمولی حالات میں کی جائے۔ معمول کے حالات کے مقابلہ میں غیر معمولی حالات میں کیا ہوا عمل ہمیشہ زیادہ عظیم ہوتا ہے۔ صبر ہی عظیم عمل ہے، اور روزہ اس عظیم عمل کے لئے ایک ماہانہ تربیتی کورس ہے۔
گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو خدا کا دین پورا کا پورا صبر کا دین ہے۔ پورا قرآن صبر کی کتاب ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات میں کسی نہ کسی اعتبار سے صبر کا پہلو شامل ہے۔
موجودہ دنیا میں اسلامی زندگی اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ غیر اسلامی زندگی کو چھوڑے گا اور اسلامی اصولوں پر اپنی زندگی کو چلائے گا۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لئے یہاں ہر معاملہ میں آدمی کے سامنے دو امکانات ہوتے ہیں۔ کوئی شخص جب دینی زندگی اختیار کرتا ہے تو وہ در حقیقت ایک روش کو چھوڑ کر دوسری روش کو اختیار کرتا ہے۔ یہ ایک کو چھوڑنا اور دوسرے کو پکڑنا صبر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے ہر اسلامی عمل میں صبر کا پہلو لازمی طور پر شامل ہو جاتا ہے۔
اس دنیا میں آدمی کو شیطان کے راستہ سے ہٹ کر خدا کے راستہ پر چلنا ہے۔ اس کو نفس پرستی کی روش چھوڑ کر بے نفسی کی روش کو اختیار کرنا ہے۔ اس کو بے اصول زندگی کو ترک کر کے با اصول زندگی کو اپنانا ہے۔ اس کو بے قید طریقہ سے اپنے آپ کو بچانا ہے اور پابند طریقہ پر قائم رہ کر زندگی گزارنا ہے۔ لوگوں سے معاملہ کرنے میں اس کو حرام کی ہوئی چیزوں سے دور رہنا ہے اور صرف حلال دائرہ میں لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔
ایک کو چھوڑنے اور دوسرے کو پکڑنے کے اس عمل کے لئے صبر کی ضرورت ہے۔ روزہ کی اہمیت یہ ہے کہ وہ آدمی کے اندر یہی صبر والی صفت پیدا کرتا ہے۔
نوٹ: یہ تقریر ے فروری ۱۹۹۴ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues