Al-Risala · March 1995 · page 18

عید الفطر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۱۸

عید الفطر

عید الفطر کا مطلب ہے افطار کی عید، کھانے پینے کی عید۔ اس کو عید الفطر اس لئے کہتے ہیں کہ وہ رمضان کے مہینے کے فوراً بعد آتی ہے۔ رمضان کا مہینہ کھانے پینے پر پابندی لگانے کا مہینہ ہے۔ اور عید الفطر کا دن ان پابندیوں سے آزاد ہونے کا دن ہے۔

روزہ اور عید کے درمیان اس ترتیب کا ایک پہلو یہ ہے کہ بندہ نے رمضان میں ایک مہینہ تک اللہ کے حکم کی تعمیل کی، تو اب اللہ نے اس کو قبول کرتے ہوئے اپنے انعام کے طور پر بندہ کو یہ موقع دیا کہ وہ پابندیوں سے آزاد ہو کر جو چاہے کھائے اور جو چاہے پیے۔ روزہ اگر اس کے لئے عمل کا مہینہ تھا تو عید الفطر اس کے لئے انعام کا دن ہے۔

دوسرے پہلو سے دیکھیے تو روزہ اور عید اس قانون فطرت کو بتا رہے ہیں جس کے مطابق موجودہ دنیا کا نظام بنایا گیا ہے۔ اس دنیا میں آسانی کے ساتھ مشقت جڑی ہوئی ہے۔ یہاں ہر کامیابی سے پہلے محنت کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ یہاں پہلے "بھوک" کو برداشت کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد آدمی کے لئے کھانے اور پینے کا دستر خوان لگایا جاتا ہے۔

روزہ اور عید انھیں دونوں حقیقتوں کی علامت ہیں۔ روزہ پہلے مرحلہ کی علامت ہے، اور عید دوسرے مرحلہ کی علامت۔ روزہ اور عید کا یہ نظام انسان کو یہ سبق دے رہا ہے کہ اس دنیا میں اگر تم خوشی اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس سے پہلے محنت اور مشقت کی وادیوں سے گزرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔

رمضان کے مہینہ کا آخری روزہ جب ختم ہوتا ہے تو نئے مہینہ کا چاند ہلال کی صورت میں آسمان کے اوپر دکھائی دیتا ہے۔ اس کو دیکھتے ہی خدا کے بندے یہ کہتے ہیں کہ اے خدا، اس چاند کو تو، ہمارے لئے امن وامان کے ساتھ نکال، اس کو تو ہمارے لئے سلامتی اور اسلام کا چاند بنا دے۔

یہ اس بات کا سبق ہے کہ عید کا مہینہ امن و سلامتی کا مہینہ ہے۔ اس دن خدا کے بندوں کو یہ عہد کرنا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ان کے خیر خواہ بن کر رہیں گے۔ وہ امن والے بول بولیں گے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page