Al-Risala · March 1995 · page 19

عید الفطر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۱۹

اور سلامتی والے عمل کریں گے۔

عید کے دن تمام چھوٹے اور بڑے اپنے گھروں سے 'اللہ بڑا ہے، اللہ بڑا ہے کہتے ہوئے نکلتے ہیں۔ پھر وہ ایک جگہ جمع ہو کر دو رکعت اجتماعی نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا عہد ہے کہ وہ بڑائی کا درجہ صرف خدا کو دیں گے۔ اور خود اپنے لئے تواضع کی روش کو پسند کریں گے۔ وہ سرکشی کا طریقہ چھوڑ دیں گے، اللہ کے مقابلہ میں بھی اور بندوں کے مقابلہ میں بھی۔ عید کی نماز سے واپسی کے بعد لوگ آپس میں ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کو تحفہ دیتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو کھلاتے پلاتے ہیں۔ یہ بھی ایک علامتی عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اسی طرح پورا سال گزارنا ہے۔ انھیں علیحدگی پسندی کا طریقہ چھوڑ دینا ہے اور سب کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارنا ہے۔ کسی آدمی کو دوسروں کے لئے بوجھ نہیں بننا ہے۔ ہر آدمی کو یہ کوشش کرنا ہے کہ وہ دوسروں کو دے۔ آدمی کو اس دنیا میں دینے والا بن کر رہنا ہے نہ کہ دوسروں سے لینے والا بن کر۔

عید کے دن یہ کام اس انتظار کے بغیر کیا جاتا ہے کہ دوسرا ہم سے ملنے کے لئے آئے تب ہم اس سے ملیں، یا دوسرا ہم کو تحفہ دے تو اس کے بعد ہم اسے تحفہ دیں۔ عید کے دن یہ سارے کام یکطرفہ جذبہ کے تحت کئے جاتے ہیں نہ کہ دو طرفہ جذبہ کے تحت۔

اس میں یہ سبق ہے کہ اس دنیا میں وہی شخص انسانیت اور اخلاق کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے جو یک طرفہ طور پر انسانیت اور اخلاق کا اصول اختیار کرنے پر راضی ہو جائے۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسروں سے تعلق پیدا کرنا ہے، خواہ دوسرے اس کے ساتھ تعلق نہ پیدا کر رہے ہوں۔ یہاں آدمی کو اپنے پڑوسی سے محبت کرنا ہے، خواہ اس کا پڑوسی اس کے ساتھ محبت کا اظہار نہ کر رہا ہو۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسرے انسانوں کو دوست بننا ہے، خواہ دوسرے انسان اس کے ساتھ دوستی کا معاملہ کرنے پر راضی نہ ہوں۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسرے انسانوں کے لئے نفع بخش بنانا ہے خواہ دوسرے انسانوں سے اس کو نفع بخشی کا تجربہ نہ ہو رہا ہو۔ روزہ اور عید سال میں ایک بار آتے ہیں، مگر وہ پورے سال کے لئے ہماری زندگی کا کورس متعین کرتے ہیں۔ روزہ اور عید علامتی طور پر خدا کے بندوں کو یہ بتاتے ہیں کہ خدا

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page