Al-Risala · March 1995 · page 20

عید الفطر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰

کی زمین پر انھیں کس طرح رہنا چاہئے۔ روزہ اگر آغاز حیات کی علامت ہے تو عید انجام حیات کی علامت۔ روزہ رکھنے کے بعد لوگ عید کے انعام کے مستحق بنتے ہیں۔ اسی طرح انھیں چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں تاکہ اس کے بعد وہ اپنے حقوق کو پاسکیں ۔ ان کو چاہئے کہ وہ پابندیوں کو نبھائیں تاکہ وہ انعامات کے مستحق ٹھہریں۔ ان کو چاہئے کہ وہ دوسروں کے خیر خواہ بنیں تاکہ دوسرے بھی ان کے ساتھ خیر خواہی کریں۔ ان کو چاہئے کہ وہ سماج میں دینے والے بن کر رہیں تاکہ انھیں بھی سماج میں عزت کا مقام مل سکے۔ ان کو چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسیوں اور اپنے انسانی بھائیوں کے ساتھ یکطرفہ طور پر اچھا سلوک کریں۔ کیوں کہ جو لوگ اس طرح اچھا سلوک کریں ۔ ان کے لئے ان کا دشمن بھی ان کا دوست بن جاتا ہے۔

روزہ اور عید کے درمیان ایک اور گہرا فرق پایا جاتا ہے۔ روزہ گویا نہ کرنے کا مہینہ ہے اور عید اس کے مقابلہ میں کرنے کا دن۔ روزہ گویا رکنے کا مہینہ ہے اور عید اس کے مقابلہ میں چلنے کا دن۔ روزہ گویا چپ رہنے کا مہینہ ہے اور عید اس کے مقابلہ میں بولنے کا دن۔ روزہ گویا ٹھہرنے کا مہینہ ہے اور عید اس کے مقابلہ میں اقدام کا دن۔

اس فرق میں یہ سبق ہے کہ زندگی میں دونوں ہی قسم کی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی میں کبھی کرنا ہوتا ہے اور کبھی نہ کرنا۔ کبھی چلنا ہوتا ہے اور کبھی ٹھہر جانا۔ کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی چپ ہو جانا۔ کبھی اقدام کرنا ہوتا ہے اور کبھی پیچھے رک جانا۔ روزہ اور عید دونوں ایک اعتبار سے عبادت ہیں اور دوسرے اعتبار سے تربیت۔

روزہ اور عید میں ایک طرف خدا کو راضی کرنے کے پہلو موجود ہیں۔ اور دوسری طرف ان کا عملی نقشہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ وسیع تر زندگی کے لئے تربیت کا کورس بن جائیں ۔ وہ علامتی طور پر پورے سال کے لئے رہنمائے حیات کا کام دیں۔

نوٹ : یہ تقریر ۲۵ مارچ ۱۹۹۳ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page