نادر چیز
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱
نادر چیز
ٹامس کارلائل (Thomas Carlyle) نے کہا ہے کہ ایک اچھی لکھی ہوئی سوانح حیات اتنی ہی نادر ہے جتنا کہ ایک اچھی گزاری ہوئی زندگی ؛
A well-written life is almost as rare as a well-spent life. ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں نہ ایک معیاری زندگی گزار نا ممکن ہے اور نہ ایک معیاری سوانح حیات لکھنا۔ موجودہ محدود دنیا کے حالات اس میں مانع ہیں کہ کوئی شخص معیاری زندگی گزار سکے ۔ اسی طرح موجودہ زبانوں کی وسعت اس سے بہت کم ہے کہ کوئی شخص معیاری انداز پر ایک سوانح حیات مرتب کر سکے۔
میرا اپنا تجربہ یہ ہے کہ میں نے اپنی سوانح حیات لکھنے کی کوشش کی۔ مگر بار بار لکھنا شروع کیا اور بار بار ترک کیا۔ جب بھی میں نے اس کا کوئی باب یا اس کا کوئی صفحہ لکھا تو آخر میں مجھے محسوس ہوا کہ اصل بات تو اس میں لکھنے سے رہ گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے الفاظ کسی واقعہ کو بیان کرنے کے لئے انتہائی حد تک ناکافی ہیں۔ وہ اتنے ناکافی ہیں کہ آدمی خود اپنے حالات زندگی بھی نہیں لکھ سکتا۔ وہ دوسروں کے بارہ میں کیا لکھے گا۔ یہ انسانی محدودیت کا بڑا عجیب ثبوت ہے۔
بعض لوگ ایک کتاب لکھتے ہیں اور اس پر ناز کرتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں ایک قابل ذکر اور قابل قدر کارنامہ انجام دیا۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ :
شادم از زندگی خویش که کارے کردم
اس قسم کا نادر صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ کام کرنا تو در کنار ، ابھی تک آدمی یہ بھی نہ جان سکا کہ کام ہے کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ آدمی اپنے عجز کو جان لے۔ ورنہ ہی وہ کام ہے جس کو کرنا کوئی شخص نہیں جانتا۔
بر خود غلط آدمی اپنے کمال کو جانتا ہے۔ مگر صاحب معرفت اپنے عجز کو جانتا ہے۔ کیوں کہ آدمی کے پاس عجز کے سوا کوئی اور سرمایہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues