Al-Risala · March 1995 · page 22

حکمت دین

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۲۲

حکمت دین

ایک صاحب نے اپنے حج کا سفر نامہ لکھا ہے۔ انہوں نے ۸ بار حج کیا ہے اور اسی کے ساتھ وہ ایک عالم بھی ہیں۔ سوال کرنے والے کا سوال یہ تھا : ”یہ ایک عجیب بات ہے کہ حجر اسود جو محض ایک پتھر ہے اس کو تو لوگ چومنے کے لیے ایک دوسرے پر گرتے ہیں ۔ اور جمرات بھی پتھر ہی کی شکل میں نصب ہیں مگر لوگ ان کو پتھر مارنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دھکم پیل کرتے ہیں۔ یہ کیا ماجرا ہے کہ ایک پتھر کو تو لوگ عقیدت سے چومتے ہیں، جب کہ دوسرے پتھر پر وہ پتھراؤ کرتے ہیں۔ “ مذکورہ صاحب نے جواب دیا کہ اسلام اطاعت اور فرماں برداری کا نام ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنے کے لیے عقل اور دلیل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ بلکہ صرف تسلیم و رضا کے جذبہ کے ساتھ اس پر عمل کرنا چاہیے ۔ (البلاغ، جولائی ۱۹۹۳) یہ جواب درست نہیں۔ اسلام بلاشبہ تعمیل حکم کا نام ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ جس چیز کا حکم اسلام میں دیا گیا ہے وہ سراپا حکمت پر مبنی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شاہ ولی اللہ دہلوی کو حجۃ اللہ البالغہ جیسی کتاب لکھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

اصل یہ ہے کہ یہ حجر میں فرق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ حقیقت حجر میں فرق کا معاملہ ہے۔ نہ محض پتھر کی وجہ سے ایک کا احترام ہے اور نہ محض پتھر کی وجہ سے دوسرے کی بے احترامی ۔ اصل یہ ہے کہ دونوں پتھر الگ الگ چیزوں کی علامت ہیں۔ حجر اسود ابراہیم خلیل اللہ کی علامت ہے اس لیے وہ قابل احترام ہے۔ اور جمرات شیطان لعین کی علامت ہے اس لیے وہ سنگ باری کا مستحق ہے، حجر اسود کو چومنا سنت ابراہیمی سے عقیدت کا اظہار ہے اور جمرات کو پتھر مارنا عمل شیطانی کے ساتھ نفرت کا اظہار۔

ایک فوج اپنے ملک کے جھنڈے کا احترام کرتی ہے ، مگر وہ دشمن ملک کے جھنڈے کو پیروں تلے روندتی ہے ۔ حالانکہ دونوں ہی کپڑا ہیں۔ دونوں میں یہ فرق اس لیے ہے کہ ایک جھنڈا وطن دوستی کی علامت ہے اور دوسرا جھنڈا وطن دشمنی کی علامت ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page