ی۶ھ حاملین اسلام
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۴
ی۶ھ حاملین اسلام
صلح حدیبیہ کا واقعہ ہ میں پیش آیا۔ اسی سال کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطرافِ عرب کے حاکموں اور بادشاہوں کو دعوتی خطوط روانہ کیے ۔ انھیں میں سے ایک خط وہ تھا جو دحیہ کلبی کے ذریعہ شاہ روم ہرقل (Heraclius) کے نام بھیجا گیا۔ یہ مسیحی تھا اور نہایت ذہین اور حقیقت پسند آدمی تھا۔ ہرقل اُس وقت فلسطین میں تھا۔ اس زمانہ میں عرب کے لوگ تجارت کی غرض سے اس علاقہ میں جایا کرتے تھے۔ چنانچہ ہرقل نے تحقیق حال کے لیے کچھ عربوں کو بلوایا جن میں ابو سفیان بن حرب بھی شامل تھے۔ ہرقل نے ترجمان کے ذریعہ اُن سے گفتگو کی۔ ایک روایت کے مطابق گفتگو کا ایک حصہ یہ تھا: قال اخبرنی یا ابا سفیان ۔ فقال ھو ساحر کذاب ہرقل نے کہا کہ اے ابو سفیان مجھے محمد کے بارے میں و ليس بنبی ۔ فقال هرقل انی لا ارید بتاؤ۔ ابو سفیان نے کہا کہ وہ جادو گر اور جھوٹے ہیں، شتمه ولکن کیف نسبه فيکم ۔ ۔۔ کیف وہ پیغمبر نہیں ۔ ہرقل نے کہا میں تم سے اُن کی سب و شتم سننا نہیں چاہتا۔ بلکہ مجھے یہ بتاؤ کہ ان کا حسب نسب (سیرۃ ابن کثیر، المجلد الثالث، صفحه (۵۰۳) کیا ہے ، ان کی سمجھ کیسی ہے اور ان کی رائے کیسی ہے۔
ہرقل ایک "کافر" تھا۔ وہ کافر ہی رہا اور کافر ہی مرا۔ مگر اُس کو اس سے دل چسپی نہیں تھی کہ کوئی شخص اس کے حریف کے بارے میں برے الفاظ بولے اور وہ اس کو سن کر خوش ہو۔ بلکہ اس کی دل چسپی اس میں تھی کہ وہ جانے کہ جو شخص اس کا حریف بن کر ابھرا ہے، وہ خاندانی شرافت اور ذہنی صلاحیت کے اعتبار سے کیسا ہے، وہ صاحب رائے ہے یا نہیں۔ وغیرہ۔
اس کے مقابلہ میں موجودہ حاملین اسلام کو دیکھئے۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے حریف کے خلاف کوئی بھی لغویات سننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ کوئی کمینہ آدمی اگر ان کے مفروضہ حریف کے خلاف جھوٹے مضامین شائع کرے تو اس کو روکنا تو درکنار، وہ اس کو لطف لے کر پڑھیں گے اور ان کے معتقدین اس کو ہر طرف پھیلائیں گے۔ کیسے عجیب ہیں وہ حاملین اسلام جو حاملین کفر کے اخلاقی معیار پر بھی پورے نہ اتریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues