اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۳۳
سلامیین، بدقسمتی سے تشدد کو اسلام کی اقامت کا ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں، اسی کی وجہ سے یہ ساری غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔
یہی بات ڈاکٹر ابراہیم الرفاعی نے کہی۔ انھوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ ہم دوبارہ نبوی اصول کی طرف واپس لوٹیں (لابد من الرجوع الى القاعدة النبوية)
اخوانی فکر کے ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ سلمان رشدی کے قتل کے فتوے کو غلط سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں میری رائے کوئی نئی یا منفرد رائے نہیں ہے۔ ایک رائے بلاشبہ وہ ہے جس کو امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں بیان کیا ہے۔ مگر علماء کے درمیان ایک اور رائے بھی موجود ہے۔ چنانچہ مرتد کے بارہ میں اور اس پر قیاس کرتے ہوئے شاتم کے بارہ میں بھی، ابراہیم النخعی اور سفیان الثوری کی رائے یہ ہے کہ اس سے ہمیشہ صرف تو بہ کا تقاضا کیا جائے گا، اس کو قتل نہیں کیا جائے گا (يستتاب ابداً ولا یقتل)۔
عمر عبد السلام رباط میں عربی اخبار الشرق الاوسط کے نمائندہ ہیں۔ انھوں نے ۱۹ فروری کو انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے حالات اور معاملات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان جن مسائل سے دوچار ہیں عام طور پر اس کی ذمہ داری ہندوستان کے غیر مسلم فرقہ پر ڈالی جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کے واحد ذمہ دار خود مسلمانوں کے نااہل لیڈر ہیں۔ یہ نام نہاد لیڈر اس عربی مثل کے مصداق ثابت ہوئے ہیں :
اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار
افغانستان کے بارہ میں سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ جنگجوئی افغانیوں کی قومی صفت ہے۔ یہی ان کے اس مزاج کا مظاہرہ اغیار کے خلاف ہوتا ہے اور کبھی خود اپنوں کے خلاف: و احيانا على بكر اخينا اذا لم نجد الا اخانا ۲۰ فروری کی شام کو شہر کے ایک ہوٹل نزل المارشی میں تعلیم یافتہ عرب نوجوانوں کا ایک اجتماع تھا۔ اس میں شرکت کی ڈھائی گھنٹہ تک ان کے سامنے دین کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues