اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۳۴
اس اجتماع سے واپسی میں رات کے گیارہ بجے کا وقت ہو گیا ۔ جب میں مقامِ اجتماع سے نکل کر باہر آیا تو سڑک پر مردوں اور عورتوں کی زبردست بھیڑ نظر آئی ۔ میں نے پوچھا کہ آدھی رات کو آخر اتنے زیادہ لوگ کیوں چل رہے ہیں اور یہ کہاں جا رہے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ رمضان میں یہی عرب ملکوں کا دستور ہے ۔ رمضان کی رات کا زیادہ حصہ وہ بازاریں خرید و فروخت میں گزارتے ہیں ۔ پرانی دہلی کے مسلم محلوں میں بھی اسی قسم کی بھیڑ ہوتی ہے ۔ مگر وہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے ۔ عرب ملکوں میں یہ بھیڑ رمضان کے پورے مہینہ میں جاری رہتی ہے ۔
ایک مجلس میں ایک عالم نے یہ مشہور مقولہ دہرایا : ان للہ عباد ۱۱ذا 11 اراد ۔ میں نے کہا کہ یہ بندے وہ ہیں جو اپنے آپ کو اتنا زیادہ مٹاتے ہیں کہ وہ ذاتی خواہش سے بلند ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ خود بھی وہی چاہنے لگتے ہیں جو خدا چاہتا ہے ۔ اور جب ان کی روحانی ترقی کا یہ درجہ آ جائے تو اس کے بعد وہی واقعہ رونما ہوتا ہے جس کا اوپر کے مقولہ میں ذکر ہے ۔ تاہم یہ ایک ایسا لطیف معاملہ ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
۲۱ فروری کی صبح کو عرب نوجوانوں کا ایک اجتماع ہوا ۔ اس میں دور جدید میں اسلام کے احیاء کے مسائل پر گفتگو ہوئی ۔ ان میں سے ایک عرب ڈاکٹر بھی تھے ۔ انھوں نے کہا کہ میرے بھائی روسی زبان جانتے ہیں اور وہ ماسکو میں رہتے ہیں ۔ انھوں نے ایک روسی ادیب کی مدد سے الرسالہ مشن کی کئی کتابوں کا ترجمہ کیا ہے ۔ انسان اپنے آپ کو پہچان (انگریزی) کا ترجمہ روسی زبان میں وہ چھپوا چکے ہیں ۔ اسی طرح تمام کتابوں کو چھپوانا چاہتے ہیں ۔
دوپہر کو وزارت الاوقاف کے ہال میں مناقشہ ہوا ۔ یہ مناقشہ مجامع مکارم الاخلاق والے مقالہ پر تھا ۔ ڈاکٹر ابراہیم الرمانئی نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام پسندوں نے تشدد کے ذریعہ اسلامی انقلاب لانے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے اس سے رجوع کرنا ضروری ہے ۔ اس کے بجائے اسلامی تحریک کو دعوت کے اصول پر چلانا چاہئے ۔ اس رجوع کے بغیر اسلام کی تاریخ کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا ۔
شام کو 9 بجے ملک محمد الخامس کی تفریح پر الحفل الدینی" منعقد کیا گیا ۔ یہاں اعیان سلطنت اور اور شرکاء درس بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔ ملک محمد حسن الثانی بھی اس میں موجود تھے ۔ پہلے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues