Al-Risala · March 1995 · page 35

اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۳۵

قرآن کی تلاوت ہوئی۔ پھر عربی نعت پڑھی گئی ۔ اس کے بعد دعا پر مجلس برخاست ہوئی۔ ایک گفتگو کے ذیل میں میں نے کچھ عرب حضرات سے کہا کہ عمر ابو ریشہ کی ایک مشہور نظم ہے ۔ اس میں وہ جذباتی انداز میں کہتے ہیں کہ اے میری قوم کیا دنیا کی قوموں کے درمیان تلوار یا قلم میں تیرا کوئی مقام ہے:

أمَّتى هَلْ لَكِ بَيْنَ الأُمَمِ مِنْبَرٌ لِلسَّيْفِ أَوْ لِلْقَلَمِ میں نے کہا کہ یہ شعر موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کی ترجمانی کر رہا ہے۔ وہ مسلمانوں کو صرف ان کی قومی تاریخ کے اعتبار سے دیکھتے ہیں ۔ قومی تاریخ کے اعتبار سے مسلمان بلند نظر آئیں تو وہ بلند ہیں اور قومی تاریخ کے اعتبار سے وہ پست نظر آئیں تو وہ پست ہیں ۔ یہ مسلم دانشور شعوری طور پر اس سے بے خبر ہو گئے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس ان کی قومی تاریخ کے علاوہ ایک اور چیز ہے ، اور وہ دین اسلام ہے۔ تاریخ پستی اور بلندی کا شکار ہوتی ہے ، مگر دین اسلام جو خدا کا محفوظ دین ہے ، وہ اپنی نظریاتی صداقت کے اعتبار سے ہمیشہ بلند رہتا ہے ، اس کے لئے پستی کا کوئی سوال نہیں۔ ۲۲ فروری کی صبح کو کوئی عرب نوجوان میرے کمرہ میں آ گئے ۔ ان سے کئی گھنٹہ تک دینی اور ملی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آخرت میں تین قسم کے لوگ ہوں گے۔ ایک وہ جن کا بدن اور جن کی روح دونوں دنیا میں پاک رہی۔ وہ سیدھے جنت میں داخل کر دئے جائیں گے۔ دوسرے وہ جن کی روح گندی نہیں ہوئی تاہم ان کا جسم بعض اوقات گناہوں سے آلودہ ہوا۔ ایسے لوگوں پر خدا اپنی رحمت کا پانی بہا دے گا ۔ وہ پاک وصاف ہو کر جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو جائیں گے۔ تیسرے وہ لوگ جن کا جسم بھی گندا تھا اور جن کی روح بھی گندی تھی۔ یہ لوگ قابل تزکیہ نہیں ہوں گے۔ وہ جنت میں داخلہ کے لئے نااہل قرار دیدئے جائیں گے۔

آج دوپہر کو وزارة الاوقاف کے ہال میں مناقشہ کی مجلس ہوئی۔ یہ مناقشہ المسجد و دورھا فی الاسلام والے محاضرہ پر تھا۔ اسٹیج پر بولتے ہوئے ایک صاحب نے آیت پڑھی۔ اس کو انھوں نے اس طرح کہا : فلا تقربوا بعد عامهم هذا فوراً ہی حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا تقربو انہیں يقربوا ۔ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے خدا نے اپنی کتاب کی حفاظت کے لئے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page