اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۳۹
یہ غیر معمولی انتظام کیا ہے کہ ہر جگہ ایسے لوگ کھڑے ہوئے ہیں جو ایک لفظ کی غلطی کو بھی پکڑ لیں اور فوراً اس کی تصحیح کر دیں۔
سینگال کے ایک صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ آجکل المساجد قبل الساجد کے اصول پر عمل کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے ہم کو الساجد قبل المساجد کے اصول پر عمل کرنا چاہئے۔ یعنی پہلے عبادت کی روح لوگوں کے اندر پیدا کرنا چاہئے، اس کے بعد مسجدیں اپنے آپ بن جائیں گی۔
انڈونیشیا کے الاستاذ مسلم نے کہا کہ ادخال غیر المسلمین فی المسجد حرام۔ انھوں نے کہا کہ فقہاء اس معاملہ میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں : انما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا۔ مگر اس آیت سے یہ مسئلہ نہیں نکلتا۔ اس آیت میں "مشرکین" سے مراد ساری دنیا کی مشرک کمیونٹی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ مشرکین ہیں جن پر خدا کے پیغمبر نے اتمام حجت کی حد تک دعوت پہنچائی۔ اس کے باوجود انھوں نے حق کو نہیں مانا یہاں تک کہ سنت اللہ کے مطابق ان کے استیصال کا فیصلہ کیا گیا۔
ایک صاحب نے ایک عربی مقولہ سنایا: معرفة الرجال كنز (آدمیوں کو پہچاننا ایک خزانہ ہے)
رباط کے عربی ہفت روزہ الرائے کے مراسل المحیلہ لى مصدق نے بوسنیا کے صدر علی عزت بیگو فنتش کی کتاب کا عربی ترجمہ البیان الاسلامی دیا۔ اس تقریب سے ان سے جہاد اسلامی کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ آجکل مسلمان جگہ جگہ لڑ رہے ہیں اور اس کو جہاد کا نام دیتے ہیں۔ مگر جہاد کی ایک لازمی شرط ہے، اس شرط کے بغیر جو حربی اقدام کیا جائے وہ شرعی اعتبار سے جہاد نہیں ہوگا۔ وہ شرط قرآن کی اس آیت میں ہے: واعد والهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل ترهبون به عدو الله وعدوكم ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد سے پہلے اعداد (تیاری) ضروری ہے۔ اس کا معیار ہے ۔ اعداد الى حد الارھاب۔ میں نے کہا کہ موجودہ مجاہدین نے کیا ارھاب کی حد تک تیاری کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں میں نے کہا کہ جب شرط ہی پوری نہ گئی ہو تو وہ جہاد کیسے ہو جائے گا۔ کیا وضو کی شرط پوری کئے بغیر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues