Al-Risala · January 1995 · page 15

شعوری دریافت نہیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۵

شعوری دریافت نہیں

ماہر القادری (۱۹۰۶ء ۔ ۱۹۷۸ء، رسالہ مکاران (کراچی) کے ایڈیٹر تھے۔ اس کے ساتھ وہ مشہور شاعر بھی ہیں ۔ ان کا ایک شعر یہ ہے :

پہلے ہر شے کو ہم آواز کیا جاتا ہے پھر کہیں نغمہ کا آغاز کیا جاتا ہے یہ شعر زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتا رہا ہے اور وہ یہ کہ ہر اقدام سے پہلے تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ حالات موافق بنائے بغیر کوئی نتیجہ خیز عمل نہیں کیا جا سکتا۔ اجتماعی زندگی میں کسی واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مختلف اجتماعی عوامل کو اس کے موافق بنایا جائے۔ ماحول کو ہم آواز بناتے سے پہلے جو "نغمہ" چھیڑا جائے وہ علّاً بے معنی شور ہوگا ، وہ دلوں کو کھینچنے والا نغمہ نہیں بن سکتا ۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ماہر القادری کے لیے یہ صرف ایک شاعرانہ نکتہ تھا ، وہ ان کی فکری دریافت نہ تھی۔ کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے خود اپنی زندگی میں اس کے برعکس عمل کیا۔ پاکستان بننے کے بعد مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے وہاں ضروری معاشرتی حالات پیدا کیے بغیر "مطالبہ نظام اسلامی" کی ناکام مہم شروع کردی۔ گویا انھوں نے چیزوں کو ہم آواز کیے بغیر نغمہ کا آغاز کر دیا۔ مگر ماہر القادری نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی اس بے فائدہ مہم میں ان کی پوری تائید کی۔ حالاں کہ ان کے مذکورہ شعر کا تقاضا تھا کہ وہ ان پر تنقید کریں۔

بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ "مشاعرہ" کی سطح پر اچھی اچھی باتیں کہتے ہیں ، مگر وہ حقیقی عمل کی سطح پر ان کو اختیار نہیں کر پاتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ باتیں ان کی فکری دریافت نہیں ہوتیں۔ وہ موقع کی مناسبت سے ان باتوں کو لفظی طور پر بول دیتے ہیں مگر وہ ان کے فکر کا حصہ نہیں ہوتی۔ وہ ان کی سوچی سمجھی رائے نہیں ہوتی جس سے ہٹنا ان کے لیے ممکن نہ ہو۔

کسی بات کو شعوری فکر کے طور پر پانا ایک چیز ہے اور تقریر یا تحریر میں لفظی طور پر اس کو بول دینا بالکل دوسری چیز ۔ کوئی حقیقت اسی وقت آدمی کے ذہن کا جزو بنتی ہے جب کہ اس کو شعوری طور پر پائے۔ اور کوئی حقیقت آدمی کے عمل میں صرف اس وقت شامل ہوتی ہے جب کہ اس نے اس حقیقت کو شعوری طور پر پایا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page