اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۳۰
دئی نماز شرعی نماز ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر حسن محمد الفاتح قریب اللہ سوڈان کی جامعہ ام درمان میں استاد ہیں۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ آپ تو لیبیا میں رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں، میں تو دہلی میں رہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ مجھ سے ایک شخص نے کہا کہ آپ لیبیا میں رہتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں کتنی غیر ذمہ داری لوگوں کے اندر آگئی ہے۔ کسی کے بارہ میں کوئی بھی الٹی بات کہنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ زبان کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ بعض باتیں آدمی کو جہنم میں پہنچا دیتی ہیں۔
۲ فروری کی شام کو تمام لوگ والی رباط (گورنر رباط) کی رہائش گاہ پر لے جائے گئے جہاں عالی کی طرف سے افطار کا انتظام تھا۔ ہم لوگ پہنچے تو افطار کے سامان سے میز بھری ہوئی تھی۔ لمبی افطار کے بعد نماز با جماعت ادا کی گئی۔ اس کے بعد لوگ ایک کمرہ میں بیٹھ کر دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد تین بار کھاتے کے سامان سے میز لبریز کی گئی۔ حسب عادت میں نے چند سادہ چیزیں مقدار میں کھائیں، ہر ایک کی پلیٹ میں، بریڈ رکھی جانے لگی۔ میں نے دکتور ابراہیم الرفاعی سے کہا کہ نصف لی ونصف لك اور ان کی بریڈ میں سے آدھا لے لیا۔ اس کے بعد میں روٹی اور سلاد ملا کر دھیرے دھیرے کھاتا رہا۔ ڈاکٹر حسن محمد الفاتح قریب اللہ (سوڈان) مجھ سے نزدیک کی کرسی پر تھے، آخر میں انھوں نے کہا کہ آپ تو کھانے ہی نہیں۔
کھانے کی بڑی میز پر مختلف قسم کے کھانے جمع تھے۔ لوگ کھا رہے تھے اور تفریحی باتیں کر رہے تھے۔ میں نہ ان کی ہنسی میں شریک ہو سکا اور نہ ان کی باتوں میں۔ میں بس خاموش بیٹھا ہوا سنتا رہا۔ دکتور احمد علی الامام (مدیر جامعہ ام درمان ، سوڈان) بھی قریب ہی تھے۔ وہ دیر تک میری حالت دیکھتے رہے۔ اس کے بعد میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور یہ عربی شعر پڑھا : وحيد من الخلان فى كل مـهـمـه اذ اعظم المطلوب قل المساعد ایک بار کھانے سے فراغت کے بعد کچھ عرب علماء بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک مصری کو نعتیں یاد تھیں انھوں نے مختلف عربی نعتیں سنانا شروع کیا۔ میں سنتا رہا۔ آخر میں میں نے کہا کہ یہ نعتیں جو آپ نے سنائی ہیں وہ سب کی سب لفظی تعریف کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میں آپ کو ایک اور نعت سناتا ہوں
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues