اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۳۸
جو پیغمبر کی معنوی تعریف میں ہے ۔ یہ ایک برطانی مستشرق اسی کیفیت کی منشور نعت ہے۔ کم از کم ایا بارہ میں میں کہہ سکتا ہوں کہ اردو ، فارسی ، عربی میں نعتیہ اشعار کا جو ذخیرہ ہے ، یہ نعت ان سب پر بھاری ہے۔ یہ منشور نعت انگریزی میں ہے ، اس کا عربی ترجمہ یہ ہے : محمد و اجه الصعوبات بعزم ان يعصر الفوز من الفشل۔
ایک مجلس میں ایک عرب عالم نے کہا کہ آج کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ ہمارے درمیان عز الدین عبد السلام جیسے علماء موجود نہیں جن کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ : اذا خرج خرجت الامة كلها (جب وہ نکلے تو پوری امت ان کے ساتھ نکل پڑی)
میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ آج بھی ہمارے یہاں بہت سے علماء پیدا ہوئے۔ مثلاً حسن البنا ۱۹۴۸ میں یہ کہہ کر اٹھے کہ لبيك يا فلسطين تو ان کے ساتھ مصری قوم سڑکوں پر نکل آئی۔ انڈیا میں مولانا محمد علی جوہر نے خلافت کا نعرہ لگایا تو تمام مسلمان ان کے پیچھے چل پڑے الجزائرمیں کچھ علماء نے استعمار سے آزادی کا نعرہ دیا تو لاکھوں لوگ گولی کھانے کے لئے تیار ہو گئے۔ وغیرہ۔
اصل یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں جب کوئی عالم ایک کام کے لئے اٹھتا تو اس کے عمل کا نتیجہ برآمد ہوا۔ موجودہ زمانہ میں جو علماء اٹھے ان کی کوششیں مکمل طور پر بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔ لوگوں کی کمزوری یہ ہے کہ وہ نتیجہ عالم کے فقدان کو خود عالم کے فقدان پر محمول کر رہے ہیں۔ حالانکہ جو چیز مفقود ہے نتیجہ عالم ہے نہ کہ عالم۔
ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے اپنا نام العمرانی بتایا۔ وہ مرا کو ریڈیو کے دفتر سے بول رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ روزانہ ہم ریڈیو پر آپ کی ٹاک رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ رمضان کے آخر مہینہ تک میں یہاں رہوں گا۔ میں نے معذرت کی۔ میں نے کہا کہ اب تو میرا جانے کا وقت آگیا ہے۔ اب میں آپ کی فرمائش پوری نہیں کر سکتا۔
۲۳ فروری کو کوئی پروگرام نہیں تھا۔ سارے دن ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ملاقاتیں زیادہ تر عرب نوجوانوں سے ہوئیں۔ ایک نوجوان نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے مسائل و مشکلات کے بارہ میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ موجودہ حالات کو دوسرے لوگ مشکلات کا نام
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues