Al-Risala · March 1995 · page 39

اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۳۹

دیتے ہیں مگر میں ان کو چیلنج کہتا ہوں۔ اور چیلنج ہمیشہ فرد یا قوم کی صلاحیتوں کو ابھارنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ حالات مسلمانوں کے لئے نئی کامیابی کا زینہ ہیں۔ شام کو تمام شرکاء جنرل قادری کی رہائش گاہ پر لے جائے گئے۔ یہاں افطار کا انتظام تھا۔ دیر تک افطار کا سلسلہ جاری رہا۔ لوگ ذوق وشوق کے ساتھ کھاتے رہے اور تفریحی باتیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے اعلان کیا کہ مغرب کی نماز پڑھنے کے لئے آجائیں۔ ایک عرب عالم نے اٹھتے ہوئے کہا: ما اكلنا لا یمضم الا بالصلاة ۔

ہندستان میں جہاں کہیں پڑھے لکھے لوگ جمع ہوتے ہیں تو زیادہ تر وہ تفریحی باتیں کرتے ہیں۔ اگر کسی علمی نکتہ کا ذکر آتا ہے تو وہ بھی تفریح کے انداز میں۔ یہاں بھی تقریب یہی حال تھا، اس فرق کے ساتھ کہ ہندستان میں اردو میں تفریحی باتیں ہوتی ہیں اور یہاں عربی میں۔ میز پر کیلا یا تو ایک صاحب نے اس کو ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا : الامام مالک كان يحب الموز۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ وہ کیلے کو بھی پسند کرتے اور موت کو بھی۔

ایک لبنانی عالم تھے۔ انھوں نے کہا کہ و يحمل عرش ربك يومئذ ثمانية (الحاقه) میں ثمانیہ سے مراد آٹھ پہاڑ ہیں، ان میں سے ایک لبنان کا پہاڑ ہے۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ تفسیر غلط ہے۔ لبنانی بزرگ نے کہا کہ ہم تو کتابوں میں جو پڑھتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ راسخون في العلم يؤمنون بہ۔ تفریح کے موڈ میں ان کو یاد نہیں رہا کہ آیت میں ایمان سے مراد قرآن پر ایمان ہے نہ کہ تفسیری حاشیوں پر ایمان۔

ایک مجلس میں چند علماء بیٹھے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر ابراہیم الرفاعی نے ایک مراکشی عالم سے میرا تعارف کرانا چاہا۔ انھوں نے کہا: ان کو کون نہیں جانتا ان کی کتابیں تو اسلامی بیداری کی تمہید ہیں۔ (كتبه مقدمة الصحوة)

۲۴ فروری کی صبح کو فجر کی نماز ادا کی تو ذہن پر یہ خیال طاری تھا کہ کل صبح کو مجھ کو یہاں سے روانہ ہونا ہے۔ نماز کے بعد دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ زبان پر آگئے: رب ادخلنی مدخل صدق و اخرجنی مخرج صدق و اجعل لى من لدنك سلطانا نصيرا (اے میرے رب، مجھ کو داخل کر سچا داخل اور مجھ کو نکال سچا نکالنا۔ اور مجھ کو اپنے پاس سے مددگار قوت عطا فرما)، بنی اسرائیل ۸۰

‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues

Printed page