اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۴۰
۲۴ فروری کو استاذ التلمامی الراجی الہاشمی کا درس تھا۔ اس کا موضوع تھا : القرأت المتواترة والوقف القیروانی۔ انھوں نے الترمذی میں انس ابن مالک کی اس روایت کو عنوان بنایا تھا کہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأ أن النفس بالنفس والعین بالعين (المائدة) انھوں نے خالص فنی انداز میں قرآن میں اختلاف قرأت اور اختلاف وقف کے اوپر روشنی ڈالی۔
درس کے فوراً بعد افطار کے لیے جانا تھا۔ یہ افطار قصر ملکی کے جنرل کی رہائش گاہ پر تھا۔ رؤساء عرب کے عام دستور کے مطابق بے شمار قسم کے کھانے وافر مقدار میں میزوں پر سجائے ہوئے تھے۔ سوا چھ بجے افطار شروع ہوا۔ واپس فندق میں آئے تو رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے۔ سب سے پہلے انواع واقسام کی چیزوں سے افطار کیا گیا جو پورے کھانے کے برابر تھا۔ کھانے کے دوران لوگ طرح طرح کی تفریحی باتیں کرتے رہے۔ آدمی پانی کی ٹرے لے کر آیا تو ایک صاحب نے کہا : الماء لمن طلب۔ دوسرے نے کہا الحلیب لمن حلب۔ اس طرح تفریحی باتوں کے درمیان لوگ کھاتے رہے۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کا اعلان ہوا تو ایک صاحب نے کہا : مااك لا یہضم الا بالصلاة۔
مغرب کی نماز کے بعد ایک بڑے کمرہ میں نشست ہوئی۔ یہاں لوگوں کے اوپر عطر چھڑکا گیا۔ بخور جلائے گئے۔ مختلف قاریوں نے قرآن کی تلاوت کی۔ ایک قاری نے اقرأ باسم ربك الذي خلق۔ کو سات قرأتوں کے ساتھ پڑھ کر سنایا۔ ایک بار دو قاریوں نے مل کر کورس کی صورت میں قرآن کے کچھ حصے پڑھے۔ کسی نے یمن کی قرأت سنائی، کسی نے مغرب کی اور کسی نے مصر کی۔ اس کے بعد کھانے کا دور شروع ہوا۔ ایک کے بعد ایک تین بڑی بڑی ٹرے میں لا کر ہر میز پر گوشت رکھ دیا گیا۔ میں تو گوشت کا ایک ریزہ بھی نہ لے سکا۔ تاہم لوگ نہایت ذوق وشوق کے ساتھ کھاتے رہے۔ حمامہ (کبوتر) کی ٹرے آئی تو ہر شخص نے ایک ایک مسلم کبوتر اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔ ایک صاحب نے کہا : كل د احد بجغام دوسرے صاحب نے کہا : فكل انسان طائره في عنقه میں اپنی کرسی پر بیٹھا ہوا صرف کھانے والوں کا منظر دیکھتا رہا۔ ہر بار گوشت اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ کافی کھانے کے بعد بھی بہت زیادہ بچ جاتا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues