خبر نامه اسملامی مرکز - ۱۰۲
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵، صفحہ ۴۹
صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ، ۲۷۷ اکتوبر ۱۹۹۴ء کر آل انڈیا ریڈریو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔ اس تقریر کا عنوان تھا: تصوف اور تہذیب نفس۔
بڑودہ میں ۱۳ نومبر ۱۹۹۴ء کو ریلیجن اینڈ سوسائٹی کے موضوع پر ایک آل انڈیا سیمینار ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس سے خطاب کیا۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔
محمد اقبال صاحب (اندور) لکھتے ہیں: الرسالہ اکتوبر ۱۹۹۴ء میں آپ نے اپنے دلائل، خصوصاً مولانا مودودی، مولانا علی میاں، مولانا حسین احمد مدنی کی جو تحریریں پیش کی ہیں ان کے بعد اگر کوئی نہ مانے تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ ورنہ بات تو پایہ تحقیق کو پہنچ چکی اور اتمام حجت ہو چکا۔ کچھ حضرات نے توجہ دلائی ہے کہ الرسالہ مشن کی مخالفت میں جو کتابیں چھاپی جارہی ہیں ان کا جواب دیا جائے ۔ مگر یہ کتابیں اتنی لغو ہیں کہ ان کا جواب دینا وقت ضائع کرنا ہے۔ مثال کے طور پر ایک کتاب چھپی ہے۔ "مولانا وحید الدین کی فکری قلابازیاں"۔ اس کے صفحہ ۷۰ پر "میوات کا سفر" نامی کتاب کا ذکر کرتے ہوئے درج ہے کہ "مولانا صاحب صاحب لکھتے ہیں کہ الجمعیۃ ویکلی کی ادارت کے زمانہ میں مجھے میوات جانے اور وہاں کے حالات کا قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ اس اقتباس کے بعد اس میں لکھا ہے کہ "بات پوری نہیں ہوتی۔ آگے کا جملہ یہ کہ .... :" آگے کا جملہ یہ ہے کہ "لکھ کو جو سطریں درج ہیں وہ سراسر جھوٹ ہیں۔ اصل کتاب (میوات کا سفر) میں ایسی کوئی بات سرے سے موجود ہی نہیں۔
بھارتیہ ودیا بھون کے نمائندہ مسٹر پی ورڈ راجن ۱۰ نومبر ۱۹۹۴ء کو صدر اسلامی مرکز سے ملے۔ اور اسکول کے بچوں کے لئے ایک ایسی ریڈ تیار کرنے کی فرمائش کی جس میں اسلامی شخصیتوں کے پچیس اخلاقی واقعات سادہ انداز میں بیان کئے گئے ہوں۔ یہ کتاب انگریزی زبان میں ہوگی۔
اسفار ہند کے نام سے ایک کتاب ترتیب کے آخری مرحلہ میں ہے۔ یہ کتاب گویا سفروں کی صورت میں ملک کے اندر دعوتی اور تعمیری امکانات کا ایک مطالعہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1995 All issues