Al-Risala · April 1995 · page 12

احیاء ملت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۱۲

احیاء ملت

دہلی کا قطب مینار تیرھویں صدی عیسوی میں قطب الدین ایبک نے بنوایا تھا۔ اگر آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر کہیں کہ "اے قطب مینار، تو وہی بلند ٹاور ہے جس کو قطب الدین ایبک نے اپنی فتح کے نشان کے طور پر سات سو سال پہلے بنوایا تھا۔ " تو یہ ایک صحیح بات ہوگی۔ لیکن اگر آپ کسی جلسہ میں اس طرح تقریر کریں کہ "اے مسلمانو، تم وہی خیرامت ہو جس کو پیغمبر اسلام نے چودہ سو سال پہلے بنایا تھا اور جس نے عرب کے صحرا سے نکل کر روم و ایران کی سلطنت کو الٹ دیا تھا" تو یہ دوسری بات سراسر بے اصل اور خلاف واقعہ قرار دی جائے گی۔

قطب مینار ایک جامد وجود ہے۔ وہ عین اپنے سابق وجود کا تسلسل ہے۔ وہ اپنے ابتدائی وجود ہی کے ساتھ تاریخ میں مسلسل چلا آرہا ہے۔ جو بلند سنگی عمارت آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اسی سنگی عمارت کو سات سو سال پہلے بھی دیکھنے والوں نے دیکھا تھا۔

مگر مسلمان ایک انسانی گروہ کا نام ہے۔ انسان کی عمر محدود ہوتی ہے۔ وہ ۶۰ سال یا اس سے کم بیش مدت میں مر جاتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا انسان پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے انسانی مجموعہ کے لئے پہلی نسل ، دوسری نسل اور بعد کی نسل کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ انسانوں میں اسلاف و اخلاف ہوتے ہیں۔ جبکہ تاریخی عمارتوں میں اسلاف و اخلاف کا کوئی تصور نہیں ملاحظہ ہو مقدمہ ابن خلدون صفحہ ۲۸- ۲۹)

اس سے معلوم ہوا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ اے مسلمانو، تم وہی تو ہو۔ جنھوں نے ایسا اور ایسا کیا تھا۔ مگر موجودہ دور پریس میں مسلمانوں کے اندر جو مصلح اور رہنما پیدا ہوئے، تقریباً سب نے اسی انداز میں مسلمانوں کو خطاب کیا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ان سب کی کوششیں بالکل رائیگاں ہوگئیں۔ اور امت میں مطلوبہ بیداری پیدا نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ طرز خطاب قرآن کے الفاظ ، میں قول غیر سدید تھا۔ اور قول غیرسدید کے ذریعہ کبھی اصلاح احوال نہیں ہوتی (الاحزاب ۷۱) موجودہ نسلوں میں بیداری لانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کے اندر سچی معرفت پیدا کی جائے۔ ان کے اندر دوبارہ ذہنی انقلاب والا ایمان زندہ کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues

Printed page