Gulbuddin Hekmatyar
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۱۸
افغانستان میں اصل تقسیم اسلام اور غیر اسلام کی نہیں ہے۔ بلکہ اصل تقسیم نسلی اور قبائلی ہے۔ لوگوں کی وفاداریاں اپنے اپنے نسلی گروپ سے وابستہ ہیں۔ اس وقت افغانستان میں چار بڑے نسلی گروہ ہیں ۔ ۔۔ پشتون، تاجک، ہزارہ، ازبک۔ موجودہ افغانستان عملاً انہیں چار گروہوں میں بٹا ہوا ہے۔ ملکی مفہوم میں وہاں کوئی افغانی حکومت موجود نہیں ہے۔ بلکہ ہر گروہ اپنے اپنے علاقے میں تسلط قائم کئے ہوئے ہے۔ ملاحظہ ہو نقشہ ذیل۔ ۲۶ اپریل ۱۹۹۲ کے اخبارات کی اہم ترین سرخی یہ تھی ۔ ۔۔ مجاہدین نے کابل پر قبضہ کرلیا (Mujahideen take over Kabul)
اس طرح بظاہر ۱۳ سالہ جنگ کا خاتمہ ہوگیا۔ مگر جنگ کا یہ خاتمہ مسائل کا خاتمہ نہیں۔ کیوں کہ ایک مبصر کے الفاظ میں، یہاں بندوقیں تو بہت زیادہ ہیں۔ مگر زندگی کی ضرورت کی تمام چیزیں المناک حد تک کم ہیں :
(in this country) guns are plentiful but everything needed to support human existence is woefully short. اقتصادی کمزوری کسی قوم کو ہر اعتبار سے کمزور کر دیتی ہے۔ اقتصادی بدحالی کی دلدل سے نکلنے کا واحد ذریعہ دانش مند قیادت ہے۔ افغانستان کی تعمیر نو کے لئے افغانستان کو اسی حکمت کی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues