Al-Risala · April 1995 · page 24

معاہدہ اسلام آباد کا مکمل متن

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۲۴

ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں ۔

ہم علاقہ میں امن اور سلامتی کو فروغ دینے کے پابند ہیں۔ ہم نے خادم حرمین شریفین شاہ فہد بن عبد العزیز کی اس خواہش پر لبیک کہا ہے کہ افغان بھائی تمام اختلافات پر امن مذاکرات کے ذریعہ حل کریں۔

ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے تعمیری کردار اور افغانستان میں فروغ امن اور مفاہمت کے لئے ان کی مخلصانہ کوششوں کو سرا ہتے ہیں۔ ہم ان کوششوں کی خاطر مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مثبت حمایت کرتے ہیں جنھوں نے اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمت کے مذاکرات میں اپنے خصوصی نمائندے بھیجے ۔

انھوں نے عظیم الشان جہاد کے ثمرات کو مستحکم کرنے کے لئے ہم علیحدہ علیحدہ اور مشترکہ طور پر طویل مذاکرات کئے۔

تمام متعلقہ پارٹیاں اور گروپ حسب ذیل امور پر متفق ہیں۔

۱۔ ۱۸ ماہ کے لئے حکومت کی تشکیل جس میں برہان الدین ربانی صدر رہیں گے اور انجینئر گلبدین حکمت یار یا ان کے نمائندے سے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔ وزیر اعظم اور ان کی کا بینہ جو باہمی مشورے سے تشکیل دی جائے گی ، کے اختیارات اس معاہدہ کا ایک حصہ ہوں گے جو علیحدہ دئے گئے ہیں۔

۲۔ وزیر اعظم اس معاہدہ پر دستخط ہونے کے دو ہفتے کے اندر صدر اور مجاہدین کی جماعتوں کے رہنماؤں کے مشورہ سے کا بینہ تشکیل دیں گے ۔

۳۔ حسب ذیل انتخابی طریقہ کار پر سمجھوتہ ہو گیا ہے جس پر ۸ ماہ میں عملدرآمد کیا جائے گا۔ اور اس مدت کا آغاز ۲۹ دسمبر ۹۲ سے ہوگا۔

الف۔ تمام جماعتیں باہم مل کر ایک آزاد اور با اختیار الیکشن کمیشن فوری طور پر تشکیل دیں گی ۔ ب۔ الیکشن کمیشن کو اس معاہدہ پر دستخط کی تاریخ سے ۸ ماہ کے اندر دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کا اختیار دیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues

Printed page