معاہدہ اسلام آباد کا مکمل متن
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۲۵
ج - اس طرح منتخب شدہ عظیم دستور ساز اسمبلی ایک آئین مرتب کرے گی جس کے تحت مذکورہ ۱۸ ماہ کی مقررہ مدت میں صدر اور پارلیمنٹ کے لئے عام انتخابات ہوں گے۔
د - ہر پارٹی کے دو ارکان پر مشتمل دفاعی کونسل قائم کی جائے گی:
الف - جو قومی فوج تیار کرے گی۔
ب - جو تمام پارٹیوں اور ذرائع سے بھاری اسلحہ واپس لے گی اور یہ اسلحہ کابل اور دوسرے شہروں سے دور منتقل کیا جائے تاکہ دارالحکومت کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ ت - اس بات کو یقینی بنائے گی کہ افغانستان میں تمام سڑکیں عام استعمال کے قابل رہیں۔ ث - اس بات کو یقینی بنائے گی کہ نجی فوج یا مسلح افراد کو سرکاری فنڈ سے مالی امداد نہ دی جائے۔ ج - مسلح جدوجہد کے دوران حکومت اور مختلف جماعتوں نے جن افغان باشندوں کو گرفتار کیا ہے انہیں فوراً غیر مشروط طور پر رہا کر دیا جائے گا۔
ح - جنگ کے دوران مختلف مسلح گروہوں نے جن سرکاری اور نجی عمارتوں، رہائشی علاقوں اور جائداد وغیرہ پر قبضہ کیا ہے وہ ان کے اصل مالکان کو واپس کر دی جائیں گی۔ بے گھر ہونے والے افراد کی ان کے متعلقہ گھروں اور مقامات پر واپسی کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں گے۔ خ - مالیاتی نظام اور کرنسی کے قواعد و ضوابط کی نگرانی کے لئے ایک کل جماعتی کمیٹی قائم کی جائے گی تاکہ انہیں موجودہ افغان بنکنگ کے قوانین اور ضوابط کے ہم آہنگ بنایا جاسکے۔ م - کابل شہر میں خوراک، ایندھن اور ضروری اشیاء کی تقسیم کی نگرانی کے لئے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔
ن - جنگ بندی پر فوری طور پر عمل ہوگا۔ کابینہ کی تشکیل کے بعد جارحانہ کارروائیاں مستقل طور پر ختم ہو جائیں گی۔
و - جنگ بندی اور جارحانہ کارروائیوں کے خاتمہ کی نگرانی کے لئے اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) اور تمام افغان جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیشن قائم کیا جائے گا۔ مذکورہ معاہدہ کو منظور کرتے ہوئے حسب ذیل رہنماؤں نے ۷ مارچ ۱۹۹۳ بروز اتوار اسلام آباد پاکستان میں دستخط کئے ۔ پروفیسر برہان الدین ربانی، جمعیت اسلامی، صدر اسلامی مملکت
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues