معاہدہ اسلام آباد کا مکمل متن
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۲۶
افغانستان۔ انجینئر گلبدین حکمت یار، حزب اسلامی۔ مولوی محمد نبی محمدی، حرکت انقلاب اسلامی۔ پروفیسر صبغت اللہ مجددی، جبہ نجات ملی۔ پیر سید احمد گیلانی، محاذ ملی۔ انجینئر احمد شاہ احمد زئی، اتحاد اسلامی۔ شیخ آصف محسنی، حرکت اسلامی۔ آیت اللہ فاضل، حزب وحدت اسلامی۔ (ماخوذ از تکبیر، کراچی)
یہ معاہدہ امن افغانی قوم کے مزاج کے مطابق نہ تھا۔ وہ بس پکڑ دھکڑ کر کیا گیا تھا۔ چنانچہ معاہدہ کے جلد ہی بعد وہ خونیں لڑائی دوبارہ جاری ہو گئی جو اس معاہدہ سے پہلے جاری تھی۔ اس معاملہ میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی اپیلیں غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ اپیلوں کے غیر مؤثر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مختلف ملکوں کے مسلمان خود بھی ان لوگوں سے لڑ رہے ہیں جن سے ان کو اختلاف ہے۔ پھر ان کی لفظی اپیل پر افغانی لوگ کیوں اپنی لڑائی بند کر دیں۔ دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کو پہلے اختلاف کے باوجود پرامن تعلقات کا نمونہ پیش کرنا ہوگا، اس کے بعد ہی ان کی اپیلوں میں کوئی وزن پیدا ہو سکتا ہے۔
ساری دنیا کا مسلم پریس جو پہلے جہاد افغانستان کے پر فخر تذکرہ سے بھرا رہتا تھا۔ اب اس کے برعکس خبروں سے بھرارہنے لگا۔ ریاض کے ہفت روزہ الدعوۃ (۶ جنوری ۱۹۹۲) نے اپنی رپورٹ کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی : ابناء افغانستان یدمرونها۔ یعنی افغانستان کے باشندے خود ہی اپنے ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔ نوائے وقت (۴ مارچ ۱۹۹۳) کی ایک سرخی یہ تھی: کابل میں جنگ کے شعلے پھر بھڑک اٹھے۔ ہندوستان ٹائمنس (۸ مئی ۱۹۹۲) کی ایک رپورٹ کی سرخی تھی: لاہور کے روزنامہ نوائے وقت (یکم نومبر ۱۹۹۲) نے افغانستان سے متعلق ایک رپورٹ میں لکھا تھا :
پشاور معاہدہ میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ اقتدار میں شامل حضرات ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ انسانی، دینی اور قومی کسی بھی قسم کی قدروں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ جو مجاہد اسلام کے نام پر جہاد کر رہے تھے، اب اسلام کے نام پر ہی مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں، کیا یہ بعد از جنگ مالِ غنیمت کی تقسیم کا جھگڑا ہے؟ ۔ سالہا سال کیا اسی امید پر لڑتے رہے؟
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues