Al-Risala · April 1995 · page 28

منیجر الرسالہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۲۸

ایک سفر

اسلامک سوسائٹی آف اورنج کاؤنٹی (کیلی فورنیا، امریکہ) کے زیر اہتمام چھٹی انٹرنیشنل سیرت کانفرنس کیلی فورنیا میں ۶۵ - ۲۶ دسمبر ۱۹۹۳ء کو ہوئی۔ اس میں خطاب کرنے کے لئے مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں امریکہ کا سفر ہوا۔ ذیل میں اس سفر کی رو داد درج کی جاتی ہے۔ دہلی سے روانگی ۲۲ اور ۲۳ دسمبر کی درمیانی رات کو ہوئی۔ اب سے ۴۴ سال پہلے اسی تاریخ کی درمیانی رات میں اجودھیا کی بابری مسجد کے اندر رام کی مورتیاں رکھ دی گئی تھیں۔ اس کے بعد دونوں فرقوں کے درمیان مختلف واقعات پیش آتے رہے۔ یہاں تک کہ ۲ دسمبر ۱۹۹۲ء کو اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والی ایک بھیڑ اجودھیا میں اکٹھا ہوئی اور اس نے بابری مسجد کو ڈھا کر وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا۔

آج کے اردو اخبار میں دہلی کے ایک خود ساختہ مسلم لیڈر نے مسلمانوں سے یہ اپیل کی تھی کہ وہ ۲۳ دسمبر کو بابری مسجد پر غیر قانونی قبضہ کی یادگار منائیں۔ عملاً یہ اپیل غیر مسموع ہو کر رہ گئی۔ تاہم میں نے سوچا کہ یہ نام نہاد مسلم لیڈر اگر ہوش مند ہوتے تو وہ مسلمانوں سے کہتے کہ اب تم "یوم احتجاج" منانا چھوڑ دو، اب تم "یوم شکر" مناؤ۔ کیوں کہ ملک کی انتہا پسند طاقتوں نے ۴۴ سال کے اندر اپنی تمام تخریبی طاقت استعمال کر ڈالی۔ اس کے باوجود ملت اسلامی کا قافلہ انڈیا میں اور ساری دنیا میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس قسم کے واقعات تو ہماری گاڑی کے لئے گویا راستہ کی وہ رکاوٹیں (frictions) ہیں جو گاڑی کو تیز دوڑنے میں مددگار کا کام کرتی ہیں۔

رات کو ساڑھے گیارہ بجے گھر سے نکلا تو میری زبان پر یہ دعا تھی : اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَةُ فِی الْاَهْلِ (اے اللہ، تو ہی میرے سفر کا ساتھی ہے اور تو ہی میرے اہل میں خلیفہ ہے)

میرے بچپن میں مولانا اسماعیل میرٹھی کی اردو ریڈریں پڑھائی جاتی تھیں۔ اگرچہ اس کے بعد سیکڑوں یا شاید ہزاروں درسی کتابیں لکھی گئی ہیں مگر ویسی اردو ریڈر آج بھی کوئی دوسری

‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues

Printed page