منیجر الرسالہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۲۹
موجود نہیں ۔
اس ریڈر میں دو کبوتروں کا قصہ تھا۔ ایک کا نام تھا با زندہ ، دوسرے کا بازندہ ۔ ایک نے دوسرے سے کہا چلو، دنیا کی سیر کریں۔ اس نے ہچکچاہٹ ظاہر کی۔ اس پر پہلے والے نے کہا: سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو نوجوانی پھر کہاں میرا حال یہ ہے کہ " نوجوانی " کی عمر میں بھی سفر میرے لئے پسندیدہ چیز نہ تھا۔ اب بڑھاپے کی عمر میں تو اس کے پسندیدہ ہونے کا سوال ہی نہیں۔ پہلے اگر سفر میرے لئے غیر مرغوب تھا تو اب سفر میرے لئے مصیبت بن چکا ہے۔ تاہم ایک شخص جو کوئی مشن چلا رہا ہو اس کے لئے اس دنیا میں سفر کے بغیر چارہ بھی نہیں۔
گھر سے تقریبا ساڑھے گیارہ بجے رات کو روانہ ہوا۔ دہلی ایئر پورٹ پہنچا تو گھڑی میں سوا بارہ کا وقت تھا۔ گویا کہ گھر سے میں ۲۲ دسمبر کو نکلا اور ایئر پورٹ پہنچا تو ۲۳ دسمبر کی تاریخ شروع ہو چکی تھی ۔ ایئر پورٹ کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے آخری گیٹ پر پہنچا جہاں لوگوں کا سفری بیگ ایک خاص مشین سے گزارا جاتا ہے۔ یہاں پولیس کے دو آدمی بیٹھے ہوئے اسکرین پر اپنی نظر جمائے ہوئے تھے۔ اسکرین پر ہر آدمی کے بیگ کا اندر کا حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ مثلا ایک بیگ کے اندر کالی لمبی سی چیز دکھائی دی۔ وہ بیگ فوراً روک لیا گیا ۔ مسافر سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی ۔ معلوم ہوا کہ اس کے اندر ایک لمبی چھری رکھی ہوئی تھی۔
میں نے سوچا کہ اسی طرح خدا اپنے عالمی انتظام کے تحت ہر شخص کے اندرون کو دیکھ رہا ہے۔ اوپر سے آدمی خواہ جو بھی لبادہ اوڑھے ہوئے ہو، مگر خدا اندر کی حقیقتوں تک سے واقف ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو آدمی کے اندر احتساب ذات کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ آدمی چاہنے لگتا ہے کہ خدا کے یہاں حساب کئے جانے سے پہلے وہ خود اپنا حساب کرلے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو حدیث میں ان لفظوں میں بتائی گئی ہے ــــ حاسبو انفسکم قبل ان تحاسبوا۔
ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں میرے پاس دو آدمی اجنبی زبان میں بات کر رہے تھے۔ لباس سے وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ معلوم ہوتے تھے۔ میں نے انگریزی میں پوچھا کہ آپ لوگ کون سی زبان
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues