منیجر الرسالہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۳۵
خلاف وہاں تحریک اٹھی۔ مگر انھوں نے اس تحریک کو پوری طرح پر امن طریق پر چلایا۔ سفید فام حکومت نے ان کے خلاف تشدد کیا۔ مگر اس کا جواب انھوں نے گن کلچر سے نہیں دیا۔ وہ ہر حال میں عدم تشدد کے اصول پر قائم رہے۔ اس کا نتیجہ آخر کار سیاہ فام نسل کی کامیابی کی صورت میں نکلا۔
اس کے مقابلہ میں ان مسلم تحریکوں کی مثال لیجئے جو گن کلچر کے طریقہ پر چلائی گئیں۔ ان تحریکوں نے اپنی قوم کو یا ملک کو بربادی کے سوا کوئی اور تحفہ نہیں دیا۔
زیورک سے لاس اینجلس کا سفر ساڑھے گیارہ گھنٹہ کا تھا۔ یہ طوالت بہت زیادہ تھکا دینے والی تھی۔ مگر اللہ تعالی نے نیند کی صورت میں انسان کو بڑی عجیب نعمت عطا فرمائی ہے۔ نیند روزمرہ کی زندگی میں وہی کام کرتی ہے جو آپریشن تھیٹر میں مخدرات۔ چنانچہ سفر کے دوران کئی بار گہری نیند آئی اور یہ لمبا گھبرا دینے والا سفر بہ آسانی طے ہو گیا۔
لاس اینجلس میں کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھے ہوئے سفید فام امریکی نے میرے پاسپورٹ کو چیک کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کا مقصد سفر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ کانفرنس میں شرکت۔ دوبارہ پوچھا کہ کونسی کانفرنس۔ میں نے کہا کہ اسلامی کانفرنس۔ بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ وہ اب بھی نہیں سمجھا ہے۔ اس نے کہا: So it is business or pleasure. میں نے کہا کہ نہ بزنس اور نہ پلیز رز بلکہ مشن۔ اس نے مسکرا کر او کے کہا اور پاسپورٹ پر اسٹمپ لگا کر مجھے دیتے ہوئے کہا: تھینک یو۔
امریکی ذہن کے مطابق، باہر کا ایک شخص جب امریکہ آئے گا تو اس کا مقصد دو میں سے ایک ہوگا ___ تجارت یا تفریح۔ اس کے ذہنی سانچے میں "اسلامی کانفرنس" ایک اجنبی چیز ہے۔ چنانچہ ہوائی جہاز کے اندر جو فارم ہم کو دیا گیا، اس میں مقصد سفر کے خانہ میں یہی دو لفظ لکھے ہوئے تھے۔
لاس اینجلس ایئر پورٹ پر دو گیٹ ہیں۔ گیٹ اے، اور گیٹ بی۔ میں غلط طور پر گیٹ اے سے باہر آگیا۔ یہاں کوئی صاحب دکھائی نہیں دئے۔ میں کسی قدر پریشانی کے عالم میں کھڑا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اسلامک سوسائٹی کو ٹیلیفون کر کے معلوم کروں۔ اتنے میں ایئر پورٹ کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues