How to present Islam : A rational approach
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۴۱
کو جنم دیتا ہے۔
۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے سانحہ کے بعد بمبئی میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، اس کی رپورٹ امریکی اخبارات میں بھی شائع ہوئی تھی۔ ایک امریکی صحافی اینڈریو وارڈ (Andrew Ward) نے بمبئی جا کر وہاں کے حالات کا مشاہدہ کیا۔ اس کی رپورٹ واشنگٹن پوسٹ ۱۶ مارچ ۱۹۹۳ میں چھپی۔ اس رپورٹ کا خلاصہ میں نے یہاں کے مسلم میگزین (The Orange Crescent) کے شمارہ دسمبر ۱۹۹۳ میں دیکھا۔
اینڈریو وارڈ نے اپنا ایک احساس اس طرح لکھا ہے کہ جب میں نے بمبئی کے ہندوؤں سے پوچھا کہ وہ متعین طور پر بتائیں کہ مسلم پڑوسیوں کے ہاتھوں سے انھیں کیا تکلیف پہنچی ہے تو انھوں نے ہمیشہ قومی واقعات بیان کئے ۔ انھوں نے پڑوس کے اچھے مسلم خاندان سے اپنے ذاتی تجربات کو نظر انداز کرتے ہوئے ناقابل لحاظ مستثنیات کو عموم کی حیثیت دے دی: When I asked Hindus how, specifically they had suffered at the hands of their Muslim neighbours, they reverted to nation alist abstractions and reduced their own experiences with the nice Muslim family next door to insignificant exceptions to the general rule. اس معاملہ میں ٹھیک یہی حال مسلمانوں کا بھی ہے۔ ہر مسلمان اپنے قریبی ہندو سے اچھے سلوک کا تجربہ کر رہا ہے ۔ مگر جب قومی سطح پر رائے قائم کرنا ہو تو وہ بعض مستثنیٰ واقعات (مثلاً اجودھیا) کو لے کر پوری ہندو قوم کے بارہ میں منفی احساسات کا شکار ہو جاتا ہے۔ طرز فکر کی اسی غلطی نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان باہمی تعلقات کو غیر ضروری طور پر تلخ بنا دیا ہے۔ شکاگو کے ایک مسلم ادارہ کی طرف سے بڑے سائز پر چھپا ہوا ایک آرٹیکل نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا اسلام کو عقلی انداز میں کس طرح پیش کیا جائے:
How to present Islam : A rational approach
اس آرٹیکل میں اسلام کی مختلف تعلیمات کا مختصر تعارف تھا ۔ مگر اس کو پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ وہ بس عام روایتی انداز میں ہے۔ اس کا انداز مجھے ریشنل کے بجائے ٹریڈیشنل نظر آیا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ وہ انگریزی میں تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues