How to present Islam : A rational approach
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۴۲
صبر کے بارہ میں اس میں بتایا گیا تھا کہ مسلمان کی زندگی مستقل جہاد کی زندگی ہے۔ اس جہاد میں مسلمان کو مخالفین کی طرف سے مختلف قسم کی مصیبتیں پیش آتی ہیں۔ ان مصیبتوں کو سہتے ہوئے جہاد جاری رکھنے کا نام صبر ہے (صفحہ ۱۹) ، پھر جہاد کے تعارف میں بتایا گیا تھا کہ جہاد اس کوشش کا نام ہے کہ خدا کے مکمل قانون کو زمین پر نافذ کیا جائے:
This is hardest of the struggles (jihad), that is, to implement the rule of God on earth. اصل حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک عبادت ہے۔ موجودہ دنیا آدمی کے لئے آزمائش گاہ ہے۔ اس آزمائش میں اترنے کے لئے مستقل صبر کی ضرورت ہے۔ مومن کا اصل مقصد زمین پر نفاذ قانون نہیں ہے بلکہ اپنی ذات کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اس صابرانہ زندگی میں کبھی مخالفین سے مقابلہ بھی پیش آسکتا ہے۔ اس وقت بشرط استطاعت، مخالفین کے مقابلہ میں جمنے کا نام صبر ہوگا۔
میں نے ایک ہندوستانی بزرگ کا عربی مقالہ پڑھا۔ اس کا عنوان تھا : الأُمّة الإسلامية مُعَرَّضَةٌ للخطر (امت اسلامیہ خطرات کی زد میں) اسی طرح ایک ارد و ہفت روزہ میں ایک اور عالم کا مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا "امت اسلامیہ عالمی سازش کے نرغہ میں"۔ ان مقالات میں بتایا گیا تھا کہ مسلم ملت اس وقت ساری دنیا میں خطرات و مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ ہر جگہ اس کے وجود کو چیلنج کیا جار ہا ہے۔ تمام قو میں اس کے خلاف سازش کا جال بچھانے میں مصروف ہیں۔ وغیرہ۔
یہ بات میں نے ہندوستان میں پڑھی تھی۔ امریکہ کے مسلمانوں سے ملاقات اور گفت گو میں میں نے پایا کہ ان کا ذہن بھی ٹھیک یہی ہے۔ ایک صاحب جو امریکہ میں عزت اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں انھوں نے جب یہی بات دہرائی تو میں نے کہا کہ آپ اس " دشمن ملک " میں اتنی اچھی زندگی گزار رہے ہیں، پھر آپ اپنی سوچ کو خود اپنے آپ سے کیوں نہیں شروع کرتے۔ آپ اخباری خبروں کی بنیاد پر کیوں ملت مسلمہ کے بارہ میں تبصرہ کر رہے ہیں۔ آجکل کے تعلیم یافتہ مسلمان مغربی پریس پر مبنی خبر رسانی (disinformation) کا الزام دیتے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues