Al-Risala · April 1995 · page 49

خبر نامه اسلامی مرکز ۱۰۳

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۴۹

پیراگراف بطور نمونہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ صدر اسلامی مرکز کا یہ مضمون ہندوستان ٹائمز کے شمارہ ۱۲ دسمبر ۱۹۹۴ میں چھپا ہے :

Islam is a natural faith, free of all adulterations. By sheer virtue of its own strength, it can make inroads into the hearts of the people. The only barrier to its natural acceptance by others is the atmosphere of belligerence. If the message of Islam is to be successfully communicated, Muslims themselves must prevent any unfavourable atmosphere from coming in its way. If Muslims can achieve only this, Islam will begin again to command respect of others and enter the hearts of people on its own. There will be no further need to make any direct efforts towards this end. حوض رانی (دہلی) میں ۱۹ دسمبر ۱۹۹۴ کو بھائی چارہ دیوس کے تحت ایک جلسہ ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اسلامی نقطہ نظر پیش کیا۔ لوگوں نے اس کو پسند کیا۔ منتظمین نے کہا کہ ہم ان خیالات کو زیادہ سے زیادہ میڈیا میں پھیلائیں گے اس جلسہ کا انتظام مسد بھاون نے کیا تھا۔

اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (نئی دہلی) کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ۱۲ دسمبر ۱۹۹۴ کو ان کے اجتماع میں شرکت کی اور "ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخی تصویر" کے موضوع پر مفصل تقریر کی۔ تقریر کے بعد آدھ گھنٹہ تک سوال وجواب ہوا۔ ہندی اخبار ہندوستان کی سینئر رپورٹر منزیا پوری بھر دو اج نے ۱۲ دسمبر ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ماہنامہ کا دمنی کے لئے تھا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ سیاست اور مذہب ایک ہیں یا الگ الگ ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ سیاست سے مذہب کو جوڑنے کا کام پر امن جدوجہد کے ذریعہ ہوسکتا ہے نہ کہ زور زبردستی سے۔ زور زبردستی سے جو چیز لائی جائے گی وہ مذہب نہیں ہوگا بلکہ صرف تباہی ہوگی۔

سویسی جاگرن منچ کی طرف سے ۱۵ دسمبر ۱۹۹۴ کو سپر وہاؤس میں ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ ہندوستان کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا آنا مفید ہے یا مضر۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور موضوع پر اظہار خیال کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues

Printed page