Al-Risala · May 1995 · page 10

ایک دن

الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۰

ایک دن

دہلی میں مہرولی کے علاقہ میں ایک اسلامی ادارہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ فیض القرآن کے نام سے ہے۔ اس کو مولانامحمد طلحہ صاحب اور مولانابشیراحمد راشدالامینی نے ۱۹۹۲ میں قائم کیا تھا۔ ۲۴ جولائی ۱۹۹۴ کو اس کا پہلا دینی تعلیمی جلسہ ہوا۔ اس کے مہمانِ خصوصی مولانامحمدصدیق باندوی تھے۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے بھی اس میں شرکت کی۔

نظام الدین سے روانہ ہو کر ہم دہلی کے مختلف حصوں سے گزرے۔ جب ہم مہرولی میں داخل ہوئے تو قطب مینار پر نظر پڑی جو اس علاقہ کی سب سے بلند عمارت کے طور پر دور دور سے دکھائی دیتا ہے۔ قطب مینار تیرھویں صدی عیسوی میں قطب الدین ایبک نے بنوایا تھا۔ اس کی بابت تاریخ میں یہ الفاظ درج ہیں کہ دہلی کا قطب مینار ابھی تک قطب الدین ایبک کی فتوحات کی یاد دلاتا ہے:

The Qutub Minar in Delhi still stands to commemorate his victories. (VIII/362)

مگر اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ یہ مینار اپنی بلندیوں کے ساتھ اس سے بھی زیادہ بڑی ایک حقیقت کی یادگار ہے۔ اور وہ یہ کہ کامیابی عمل سے ملتی ہے نہ کہ پیدائش سے۔ قطب الدین ایبک ابتداً ایک غلام کی حیثیت سے محمد غوری کی ملازمت میں آیا۔ اس کے بعد اپنی ممتاز کارکردگی کی بنا پر اس نے ترقی شروع کی۔ یہاں تک کہ سلطان محمد غوری کے قتل (۱۲۰۶) کے بعد وہ اس کاجانشیں بنا۔ اور پھر اپنی حکیمانہ تدبیروں سے وہ دہلی کی سلطنت کا مالک بن گیا۔ اگر چہ وہ زیادہ دنوں تک حکومت نہ کر سکا۔ گھوڑوں کے ایک کھیل میں وہ شدید طور پر زخمی ہو گیا۔ اسی میں ۱۲۱۰ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔

اس دنیا میں کامیابی کے امکانات بے شمار ہیں۔ یہاں ایک معمولی انسان بھی بادشاہ کے درجہ تک پہنچ سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو حکیمانہ طور پر استعمال کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1995 All issues

Printed page