عبرتناک
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۶
کویت کو تسلیم کرتا ہے۔
عراق کے ڈپٹی پرائم منسٹر طارق عزیز نے ۴ نومبر ۱۹۹۲ کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے نیو یارک میں ملاقات کی اور ان کو تحریری طور پر عراق کے اس فیصلے سے مطلع کر دیا۔ (ٹائمز آف انڈیا ۱۵ نومبر ۱۹۹۴)
صدام حسین کویت کو تاریخ کا حصہ بنانا چاہتے تھے مگر وہ خود تاریخ کا حصہ بن گئے۔ اس فعل سے انھوں نے ثابت کیا کہ وہ صرف اپنے حال کو جانتے تھے، اپنے مستقبل کے بارے میں وہ آخری حد تک بے خبر بنے ہوئے تھے۔
یہی موجودہ دنیا میں ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہر آدمی اپنے آج کو جانتا ہے، اپنے کل کو وہ نہیں جانتا۔ اپنی کارروائی کی اسے خبر ہے، مگر خدا کے فرشتے اس کے خلاف جو کارروائی کر رہے ہیں، اس کی اسے خبر نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں دوسروں کے بارہ میں فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنے بارہ میں فیصلہ کرنے کی طاقت سے بھی محروم ہے۔ صدام حسین کا یہ انجام اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے۔ ایسے واقعات اس لیے پیش آتے ہیں تاکہ لوگ جان لیں کہ اسی قسم کا شدید تر انجام ان کے لیے آخرت میں ہونے والا ہے۔ صدام حسین کو جاننے والا وہ ہے جو صدام حسین کے واقعہ میں خود اپنے آپ کو جانے جو صدام حسین کے دنیوی انجام میں اپنے اُخروی انجام کو دیکھ لے۔