Al-Risala · May 1995 · page 15

تخریبی منصوبہ ناکام

الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۵

تخریبی منصوبہ ناکام

لاہور کے روز نامہ نوائے وقت ( ۲۳ جون ۱۹۹۳ ) میں ایک خبر چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے: ایک ٹیلیفون نمبر نے چار ڈاکوؤں کو پکڑوا دیا۔ اخبار کے مطابق واقعہ کی تفصیل یہ ہے : سی آئی اے اسٹاف نے مسلم ٹاؤن (لاہور) میں ڈپٹی کمشنر ٹیکس شاہین اصغر کے گھر ڈکیتی کرنے والے چار ڈاکوؤں کو ایک ٹیلیفون نمبر کے ذریعہ پکڑ لیا۔ پولیس افسر مسٹر احمد خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ واقعہ کے روز مسلم ٹاؤن کے علاقہ میں چاروں ڈاکوؤں نے ڈپٹی کمشنر ٹیکس اور ان کے ملزم کو رسیوں سے جکڑا اور ڈی سی کو اتنا مارا کہ ان کا جبڑا اور ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اس دوران ایک ملازم کے کپڑے خون آلود ہو گئے تو اس نے اپنے کپڑے اتار کر شاہین اصغر کے کپڑے پہن لئے اور اپنے کپڑے موقع پر چھوڑ گیا۔ جب پولیس نے ان کپڑوں کی تلاشی لی تو اس کی جیب سے ایک ٹیلیفون نمبر نکلا جس کا پتہ ٹیلیفون ایکسچینج سے کروایا گیا تو وہ نمبر ملت پارک فلیٹ نمبر ۸ کا تھا جس کی پولیس نے نگرانی شروع کر دی۔ ایک روز معلوم ہوا کہ ڈاکو وہاں آئے ہیں۔ فلیٹ کے مالک فاروق احمد کا بھانجا علی عمران جو گلبرگ میں رہتا تھا وہ بھی اس واردات میں ملوث پایا گیا۔ ایس پی سی آئی اے نے بتایا کہ پولیس نے جب گلبرگ میں چھاپہ مار کر علی عمران کو پکڑا تو اس نے ڈپٹی کمشنر والے کپڑے پہن رکھے تھے۔ جب اس کی تلاشی لی گئی تو اس کی جیب سے ڈی سی کا ڈرائیونگ لائسنس بھی برآمد ہوا۔ پولیس نے اس کی نشاندہی پرمناواں میں بھٹی پولٹری فارم پر چھاپہ مار کر اس کے دوسرے ساتھیوں زاہد رفیق، بشیر ریاض اور محمد حسین کو بھی گرفتار کر لیا۔ ان سے دو گھڑیاں، نقدی اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ مبشر ریاض سابق پولیس اہلکار محمد ریاض کا بیٹا تھا۔ اور علی عمران ایک پولیس انسپکٹر کا سوتیلا لڑکا ہے۔

اس دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ کوئی تخریب کار خواہ کتنی ہی زیادہ ہوشیاری کرے اس کے منصوبے میں کہیں نہ کہیں ایسا خلارہ جاتا ہے جس کو استعمال کر کے اس کے پورے منصوبہ کو ناکام بنا دیا جائے ۔ تعمیری طاقت ہمیشہ تخریب سے زیادہ ہوتی ہے ، اور یہی فرق تعمیر کی ابدی کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1995 All issues

Printed page