سفر نامہ امریکہ ۔ ۲
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۹
سفر نامہ امریکہ ۔ ۲
انھوں نے کہا کہ حیدر آباد میں تقسیم سے پہلے ایک بار ایسا ہوا کہ بہادر یار جنگ کے ایک عزیز کو ہندوؤں نے قتل کر دیا۔ اس کے بعد مسلمان تلوار لے کر نکل آئے۔ وہ ایک طرف سے ہندوؤں کو مارنا چاہتے تھے۔ مگر بہادر یار جنگ نے کہا کہ جس ہندو نے میرے عزیز کو قتل کیا ہے تم صرف اس کو مار سکتے ہو، سارے ہندوؤں کو نہیں مار سکتے۔ کیا آپ ہندوؤں میں ایسی کوئی ایک مثال بتا سکتے ہیں۔
میں نے کہا کہ آپ کو ایک نہیں، بہت سی مثالیں بتا سکتا ہوں، میرے خود اپنے وطن کا قصہ ہے۔ ایک مسلمان نے ایک ہندو (چھتر دھاری سنگھ) کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد سیکڑوں ہندو مقتول کے گھر پر جمع ہوگئے۔ انھوں نے چاہا کہ قاتل مسلمان کا تعلق جس گاؤں سے ہے اس گاؤں کے تمام مسلمانوں کو سخت سزا دیں۔ مگر مقتول کے بھائی نے زبردست مخالفت کی۔ اس نے ہندوؤں کی بھیڑ کو گاؤں میں داخل ہونے نہیں دیا۔ اس نے کہا کہ ہم دوسرے مسلمانوں کو نہیں ماریں گے اور نہ ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ ہم قاتل مسلمان کو عدالت سے سزا دلوائیں گے۔ چنانچہ اس نے عدالتی کارروائی کی۔ چند سال تک مقدمہ جاری رہا۔ آخر کار عدالت سے قاتل کو لمبی مدت کی قید کی سزا ملی۔ ہندو مقتول کے بھائی نے روکا نہ ہوتا تو یقیناً پھیری ہوئی بھیڑ مسلمان قاتل کے گاؤں کو جلا دیتی۔ مقتول کے بھائی چھتری سنگھ ابھی زندہ موجود ہیں۔ ۲۷ دسمبر کو فجر کی نماز اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں پڑھی۔ ایک عرب امامت کر رہے تھے۔ انھوں نے پہلی رکعت میں قرأت یہاں سے شروع کی : ان هذا القرآن يقص على بني إسرائيل اکثرالذی ھم فيه يختلفون (النمل ) اس آیت پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ ٹھیک یہی کام خود مسلمانوں میں بھی جاری رہتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ ہر سو سال میں ایک شخص اٹھاتا ہے جو دین کی تجدید کرتا ہے۔ یہ تجدید عین وہی چیز ہے جس کا مذکورہ آیت میں ذکر ہے۔ وقت گزرنے پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف معاملات میں دینی نقطہ نظر کیا ہے، یہ گم ہو جاتا ہے۔ طرح طرح کے منحرف نقطہ نظر رائج ہوجاتے ہیں۔ اس وقت اللہ کی توفیق سے ایک آدمی فہم و بصیرت والا اٹھتا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں صحیح دینی نقطہ نظر کا اعلان کرتا ہے۔ وہ تطہیر افکار کا کام انجام دیتا ہے۔ یہی کام بذریعہ قرآن اہل کتاب کے درمیان انجام پایا۔ اور یہی کام، ختم نبوت کے بعد، مجدد