Al-Risala · May 1995 · page 20

سفر نامہ امریکہ ۔ ۲

الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰

کے ذریعہ امت محمدی میں جاری رہے گا۔

امام صاحب نے دوسری رکعت کے آخر میں لمبی قنوت نازلہ پڑھی۔ اس میں دوبار انھوں نے کہا: اللهم دمر دیار الکافرین - اسی قسم کے الفاظ انڈیا کی مسجدوں میں بھی سنائی دیتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے مسلمانوں کی اس دعا کو قبول نہیں کیا۔ اگر فی الواقع یہ دعا قبول ہو جاتی اور کافروں کی تدمیر دیار کر دی جاتی تو خود دعا کرنے والوں کا بھی خاتمہ ہو جاتا۔ کیوں کہ یہ حضرات خود بھی انہی کافروں کے درمیان رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعا ہجرت کے بعد ہے نہ کہ ہجرت سے پہلے۔

دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے لئے یہ دعا جائز ہی نہیں۔ اس وقت ہم دعوت کے مرحلہ میں ہیں نہ کہ برأت کے مرحلہ میں۔ دعوت کے مرحلہ میں صبر ہے نہ کہ بد دعا۔ داعی کو یک طرفہ طور پر مدعو کی زیا دتیوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے ، اس کے بغیر دعوت کے عمل کو انجام دینا ممکن نہیں۔

آرنچ کاؤنٹی کے روزنامہ رجسٹر ، (۲ دسمبر ۱۹۹۳) کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا صفحہ ہم جنگ (War) کی خبروں کے لئے تھا۔ اس صفحہ پر تین بڑے بڑے اشتہار تھے۔ صرف ایک خبر جنگ کی تھی اور وہ بوسنیا کے بارہ میں تھی۔ اس کی سرخی یہ تھی :

Muslim-led forces fight to win back lost territory. دوسری خبر صفحہ ۸ پر اختلاف (Dispute) کے زیر عنوان تھی۔ یہ پریس کے بارہ میں تھی ۔ اس کا خلاصہ اس کی سرخی میں اس طرح تھا :

Muslim leader criticized schools' anti-scarf rules. موجودہ زمانہ کے عالمی میڈیا میں مسلمان تشدد، اختلاف اور ٹکراؤ کا نشان بن گئے ہیں۔ مسلم دانشور اس کو غلط اطلاع (disinformation) کہتے ہیں۔ میں نے بہت غور کیا کہ یہ لوگ کیوں ایسا کہتے ہیں جب کہ بطور واقعہ ہر جگہ وہ یہی کر رہے ہیں۔ مسلم ملکوں میں نفاذ قانون کے نام پر، غیر مسلم ملکوں میں مداخلت فی الدین کے نام پر، اسی طرح کہیں جہاد حریت کے نام پر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لیڈر چاہتے ہیں کہ وہ خواہ جو کچھ کریں ہر حال میں ان کو اسلام کا کریڈٹ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1995 All issues

Printed page