سفر نامہ امریکہ ۔ ۲
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱
حاصل رہے۔ وہ دنیا کے لئے رحمت بنیں اس کے باوجود دنیا ان کو رحمت کا خطاب دے۔ مگر خدا کی دنیا میں کبھی ایسا ہونے والا نہیں۔ ممسلمان کی تصویر ان کے اپنے اعمال کی بنیاد پر بنے گی نہ کہ ان کی خواہش کی بنیاد پر۔
کشمیر کے ڈاکٹر غلام نبی فائی بھی اس کانفرنس میں آئے تھے۔ ان کے خط کے جواب میں صدر کلنٹن کے خط (مورخہ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۳) کا ہندوستانی اخباروں میں کافی چرچا ہوا۔ انہوں نے اس خط کی ایک کاپی مجھے دی۔ امریکہ کے شعبہ خارجہ کے ایک افسر مسٹر ایوجین پرائس جونیر (Eugene D. Price Jr) سے میں نے اس خط کی بابت پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا نے غیر ضروری طور پر اس خط کو اہمیت دے دی۔ اس طرح کاخط توروٹین کے طور پر ہمارے یہاں سے روزانہ جاتا رہتا ہے۔ دفتر خارجہ کے کارکنوں کو ایک عام پالیسی بتا دی جاتی ہے۔ اس کے تحت وہ خود اس طرح کے خطوط کے جوابات دیتے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ خود صدر کلنٹن ڈکٹٹ کرا کے اس خط کو لکھوائیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بارہ میں ہماری پالیسی وہی ہے جو پہلے تھی۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
ایک کشمیری سلمان نے کہا کہ فلپ آئن کا ایک کھلاڑی ٹینس کا ماہر تھا۔ وہ شاندار کھیل دکھا رہا تھا کہ اچانک فیلڈ کے اندر ہی گر پڑا اور فورا مر گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس واقعہ کو اخبار میں پڑھا تو میں نے کہا کہ آج مجھے یقین ہو گیا کہ کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔ یہ صاحب اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ وہ کشمیری تحریک میں ایک لیڈر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ کشمیر کی پر تشدد تحریک چلا رہے ہیں وہ کتنے سادہ لوح لوگ ہیں۔ شکاگو کے الینوئی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (I.I.T) میں انڈین طلبہ اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ لوگ مذاق سے اس کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کہنے لگے ہیں۔ یہ بات عبد الحمید سیمی نے بتائی۔ کھانے کی میز پر ایک صاحب نے کہا کہ یہودی مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ عبد الحمید سیمی نے کہا کہ ہم لوگوں کا یہی ذہن ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری لڑکی نیوجرسی کے اسپتال میں ڈاکٹر ہے۔ وہاں ایک یہودی جونیئر ڈاکٹر میری بیٹی کو آنٹی کہتا ہے۔ جو کام وہ کہتی ہے فورا بھاگ کر اس کو کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ ایک مسلم خاتون ہیں۔ مگر وہ ۲۱ الرسائل مئی ۱۹۹۵