Al-Risala · May 1995 · page 22

سفر نامہ امریکہ ۔ ۲

الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۲

صرف اس لئے ایسا کرتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنی تعلیمی ترقی جاری رکھ سکے گا۔ لوگوں کا اصل کنسرن ان کا اپنا انٹرسٹ ہے نہ کہ دوسروں کی دشمنی۔ عبد الحمید سیمی صاحب اس راز کوسمجھ گئے ہیں کہ اس دور میں ترقی کار از تعلیم ہے۔ اپنے سب بچوں کو انھوں نے اعلیٰ تعلیم پر لگایا ہے۔ ایک بچہ جو یہاں کے ایک اسلامی اسکول میں پڑھتا ہے، اس سے میں نے کہا کہ کوئی آپ سے یہ پوچھے کہ اسلام کیا ہے (What is Islam) تو آپ کیا جواب دیں گے۔ بچہ کچھ جواب نہ دے سکا۔ پھر میں نے کہا کہ اچھا یہ بتائیے کہ اسلام کے ارکان (Pillars) کتنے ہیں۔ اس نے فوراً جواب دیا: پانچ ، اور پھر شہادت دے لے کر حج تک پانچ ارکان گنا دئے۔ میں نے سوچا کہ اس طرح کے اسلامی اسکولوں سے بچہ ایک رٹے ہوئے اسلام کو تو جان لے گا مگر وہ اس اسلام کو نہیں سیکھ سکتا جو اس کے ذہن کا جزء بن گیا ہو۔ وہ رٹی ہوئی باتوں کا جواب دہرائے گا۔ مگر اپنی سمجھ کو کام میں لاکر کوئی جواب دینا ہو تو وہ ایسا جواب دینے سے عاجز ثابت ہوگا۔ ایک صاحب کی تقریر یہاں کی ایک مسجد میں سنی۔ وہ انگریزی میں بول رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ کیوں ایسا ہے کہ ساری دنیا اسلام کی مخالف ہو گئی ہے:

Why is it that the whole of the world is against Islam. اس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں تمام لوگ سیکولر ہوگئے ہیں۔ حتی کہ مسلم ممالک بھی سیکولرزم کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ سوال اور یہ جواب دونوں ہی غلط ہیں۔ نہ تو ایسا ہے کہ ساری دنیا اسلام کے خلاف ہوگئی ہے، اور نہ ایسا ہے کہ سیکولرزم اسلام کا دشمن ہے۔

بالفرض اگر دنیا اسلام کی مخالف ہو گئی ہو اور بالفرض سیکولرزم اسلام کے دشمن کے طور پر ظاہر ہوا ہو تب بھی اس قسم کی تقریر کرنا درست نہیں۔ ایسی حالت میں بھی مقرر کو یہ کہنا چاہئے کہ اسلام کی مخالفت اسلام کے نئے دور کی تمہید ہے۔ کیوں کہ جس نظریہ کی زیادہ مخالفت کی جائے وہ ہمیشہ ابھر کر رہتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اسلام کی مخالفت کو اسلام کے چرچا کے معنی میں لیں اور اس کو اسلام کی دعوت کے لئے استعمال کریں۔

ایک مسلم ملک کے خطیب قائد امریکہ آئے۔ یہاں انھوں نے اردو داں مسلمانوں کے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1995 All issues

Printed page