Al-Risala · May 1995 · page 23

سفر نامہ امریکہ ۔ ۲

الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۳

سامنے ایک تقریر کی۔ یہ تقریر چھپی ہوئی مجھ کو ملی جس کو میں نے پڑھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسلامی تحریک، خواہ وہ امریکہ میں ہو یا اور کسی ملک میں، وہ کوئی تبلیغی تحریک نہیں، وہ اسلامی نظام قائم کرنے کی انقلابی مہم ہے۔ ہم اللہ کے دین کو ایک کامل سماجی، سیاسی، سماجی، اقتصادی نظام کی حیثیت سے قائم و نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اس قیام (politico-socio-economic system) و نفاذ کے لئے ہم مسلح ٹکراؤ تک جانے کے لئے تیار ہیں! اسلام کی یہ تشریح سراسر بے بنیاد ہے۔ اسلامی تحریک اصلا تبلیغی تحریک ہی ہے۔ امریکہ میں یہ اعلان لغویت کی حد تک بے معنی ہے کہ تم اپنے ملک میں اسلام کا سیاسی، سماجی، معاشی قانون نافذ کرو، ورنہ ہم تم سے مسلح جہاد شروع کر دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ان کو ہم توحید اور آخرت کی حقیقت سے آگاہ کریں۔ اسلام کے اجتماعی قانون کا نفاذ نشانہ دعوت نہیں ہے۔ وہ کسی خطۂ ارض میں مسلم معاشرہ بن جانے کے بعد اس معاشرہ کی ذمہ داری ہے۔

انڈو اسلامک فاؤنڈیشن آف امریکہ (شکاگو) نے 48 صفحہ کی ایک کتاب بابری مسجد کے موضوع پر ۱۹۹۳ء میں چھاپی ہے۔ اس کے مؤلف ڈاکٹر عبد اللہ غازی ہیں۔ اس انگریزی کتاب کے آغاز میں اقبال کی اردو نظم ”رام“ ایک صفحہ پر نمایاں انداز میں چھاپی گئی ہے اور اگلے صفحہ پر اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں پہلی بار میں نے اقبال کی یہ پوری نظم دیکھی۔ وہ اس طرح تھی:

لبریز ہے شرابِ حقیقت سے جامِ ہند سب فلسفی ہیں خطۂ مغرب کے رام ہند یہ ہندیوں کے فکرِ فلک رس کا ہے اثر رفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بامِ ہند اس دیس میں ہوئے ہیں ہزاروں ملک سرشت مشہور جن کے دم سے ہے دنیا میں نام ہند ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز اہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند اعجاز اس چراغِ ہدایت کا ہے یہی روشن تر از سحر ہے زمانے میں شامِ ہند تلوار کا دھنی تھا، شجاعت میں مرد تھا پاکیزگی میں، جوشِ محبت میں فرد تھا ایک پاکستانی مسلمان( (مسٹر ریاض احمد۔ مقیم نیو یارک) نے کہا کہ میں آپ کے الرسالہ کا قاری ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ آپ کی تحریریں دور حاضر کے لئے بے حد مفید ہیں۔ مگر ایک چیز مجھے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1995 All issues

Printed page