سفر نامہ امریکہ ۔ ۲
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۴
کھٹکتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ تقسیم ہند کے خلاف ہیں۔ مگر آپ کی یہ رائے درست نہیں۔ جب سے میں امریکہ آیا ہوں مجھے یقین ہو گیا کہ جناح صاحب نے پاکستان بنو آکر بہت اچھا کیا۔ کیوں کہ ہم مسلمانوں کا اپنا ایک دیش تو ہے جو ہماری قومی پہچان ہے۔ میں نے کہا کہ جب آپ اور آپ جیسے لاکھوں پاکستانی مسلمان علیحدہ دیش کو اتنا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں تو اپنا الگ دیش بنو انے کے بعد وہ دوبارہ یورپ اور امریکہ میں آکر بے دیش کیوں ہو رہے ہیں۔ آپ لوگوں کا پاکستان چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں آباد ہونا خود آپ کے بیان کی تردید ہے۔ اگر پاکستان بننے کے بعد بھی آپ لوگوں کو غیر پاکستان میں رہنا تھا تو ایسی حالت میں پاکستان بنو انے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ آپ لوگ علیحدہ ملک بنوانے کے بعد دوبارہ مشترک ملک میں رہ رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اس تقسیمی سیاست نے مسلمانوں کو اتنا زیادہ نقصان پہنچایا ہے جس کی تلافی صدیوں میں بھی نہیں ہو سکتی۔
واشنگٹن کے سعودی سفارت خانہ کی طرف سے ایک عربی پمفلٹ تقسیم کیا گیا۔ اس میں شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز کے کچھ فتاوی جمع کئے گئے تھے۔ ایک سوال و جواب یہ تھا: س هل يجوز أن يُعطى الكافر نسخة من معاني القرآن الكريم علماً أنها تحتوى على القرآن الكريم كلاً على الصفحة المقابلة۔
ج لا حرج في إعطاء الكافر نسخة من معاني القرآن الكريم لان الحكم للترجمة ولما في ذالك من البلاغ والدعوة الى الاسلام۔
یعنی ایک کافر کو با ترجمہ قرآن دیا جا سکتا ہے۔ اس میں اگرچہ متن شامل ہے مگر وہ ترجمہ کے حکم میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تبلیغ و دعوت کا فائدہ مضمر ہے۔ یہ بلاشبہ صحیح فتوی ہے۔ جو لوگ غیر مسلموں کو با ترجمہ قرآن دینے سے منع کرتے ہیں وہ دعوت و تبلیغ کے احساس سے خالی ہیں۔ وہ اسلام کی اسپرٹ کو سمجھنے سے محروم ہیں۔
ایک امریکی خاتون نے اسلام قبول کر لیا۔ اب وہ ایک پاکستانی مسلمان نصیر احمد مرزا سے نکاح کرکے اوٹا (Utah) میں رہتی ہیں۔ ان کا نام ہے اے مرزا (Jeanine Aisha Mirza) ہے ۔ ان کا ایک انٹرویو میں نے پڑھا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ اکثر امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم بیویاں