صبر کا کرشمہ
الرسالہ، جون ۱۹۹۵
صبر کا کرشمہ
۲۳ جولائی ۱۹۹۳ کو میں نے جمعہ کی نماز دہلی کی مسجد سنگ تراشان (پہاڑ گنج) میں پڑھی۔ اس مسجد کے چاروں طرف صد فی صد ہندوؤں کی آبادی ہے۔ ۱۹۴۷ کے بعد یہ مسجد بند ہوگئی تھی۔ یہاں محلے کے لوگ کوڑا ڈالا کرتے تھے۔ ۱۹۸۲ میں دہلی کے ایک مسلمان جناب محمود سعید بلالی (پیدائش ۱۹۵۳) کو خیال ہوا کہ اس مسجد کو واگزار کیا جائے۔
انھوں نے کوشش کر کے اس مسجد کو کھلوایا۔ اس کی صفائی اور مرمت کرائی۔ اب سوال یہ تھا کہ اس کو آباد کس طرح کیا جائے، کیوں کہ یہاں قریب میں کوئی مسلمان نہیں۔ چنانچہ انھوں نے ایک استاد رکھ کر یہاں ایک مدرسہ قائم کر دیا۔ دو درجن مسلمان بچے یہاں رہنے اور پڑھنے لگے۔ اس طرح یہاں پنج وقتہ نماز قائم ہوگئی۔
محمود سعید بلالی صاحب (3260028 .Tel) نے اپنے واقف کاروں کے حلقہ میں اس مسجد کے بارہ میں بتایا تو جمعہ کے دن کافی لوگ یہاں آنے لگے۔ یہاں تک کہ مسجد نمازیوں سے بھر جاتی تھی۔ بلالی صاحب نے طلبہ اور نمازیوں کی سہولت کے لیے یہ منصوبہ بنایا کہ صحن کے نصف حصہ میں چھت ڈال کر ایک سائبان بنا دیا جائے۔ انھوں نے کام شروع کرا دیا۔ چنانچہ بن گیا اور اس پر چھت کی تعمیر کی جانے لگی۔
یہ ۹ مارچ ۱۹۹۱ کا واقعہ ہے۔ اچانک تقریباً ڈیڑھ سو ہندو جمع ہوگئے، جن میں زیادہ تر نوجوان تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم چھت بننے نہیں دیں گے۔ تم اس چھت کو اتار و، ورنہ یہاں خون ہو جائے گا اور تمہاری مسجد بھی باقی نہیں رہے گی۔ ایک طالب علم نے پولیس اسٹیشن جا کر انہیں خبر کر دی۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں پولیس آگئی۔ ان میں پولیس افسران بھی تھے۔ پولیس نے موقع کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ یہ تعمیر قانون کے دائرہ میں ہو رہی ہے، اس لیے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ پولیس نے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ چھت بناؤ، ہم یہاں کھڑے ہوئے ہیں۔
محمود سعید بلالی نے سوچا کہ اگر میں پولیس کے کہنے سے چھت کا کام جاری رکھوں تو یہ پولیس والے یہاں کب تک میری حفاظت کریں گے، آخر کار تو سابقہ انہیں پڑوس کے ہندوؤں سے رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues