Hinduism is the only tolerant faith.
الرسالہ، جون ۱۹۹۵، صفحہ ۴۰
کو بدل کر اپنے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ اس لیے میرے بارہ میں رائے قائم کرنے کے لیے آپ کو الرسالہ کے مضامین کو بنیاد بنانا چاہیے۔ یا خود میرے لکھے ہوئے مضامین (signed articles) جو کسی اخبار یا میگزین میں چھپیں ۔ وہ ایسا کوئی حوالہ نہ بنا سکے ۔
میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تازہ آرگنائزر(۵دسمبر ۱۹۹۳) میں میرا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ اس کی سرخی انھوں نے یہ قائم کی ہے کہ ہندوازم ہی واحد روادار مذہب ہے :
Hinduism is the only tolerant faith.
حالانکہ میں نے یہ بات نہیں کہی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ ہندوازم اور اسلام دونوں میں یکساں طور پر مذہبی رواداری کی تعلیم دی گئی ہے۔ جو فرق ہے وہ صرف ریشنل میں ہے نہ کہ خود رواداری میں۔ ہندوازم تعدد حقیقت کی بنیاد پر رواداری کی تعلیم دیتا ہے، اور اسلام احترام انسانیت کی بنیاد پر۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہندوازم میں رواداری کی بنیاد باہمی اعتراف (mutual recognition) پر قائم ہے اور اسلام میں رواداری کی بنیاد باہمی احترام (mutual respect) پر۔
ان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ میں علماء کے اس مسلک پر ہوں جو انھوں نے ”رجوع“ کے بعد اختیار کیا ، آپ لوگ علماء کے اس مسلک پر چلنا چاہتے ہیں جو انھوں نے رجوع سے پہلے اختیار کر رکھا تھا۔
آپ کو معلوم ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی جد و جہد پہلے ہمارے علماء نے اٹھائی تھی ۔ وہ اس کو تشدد کے اصول پر چلاتے رہے۔ مولانا محمود حسن دیوبندی ساڑھے تین سال کی قید کے بعد ۱۹۲۰ میں مالٹا سے واپس آئے تو اس وقت مہاتما گاندھی عدم تشدد کے اصول پر آزادی کی تحریک شروع کر چکے تھے۔ مولانا محمود حسن، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی اور دوسرے تمام علماء نے اپنے سابقہ موقف سے رجوع کر لیا۔ تقریباً ایک سو سال کے بعد انھوں نے متفقہ طور پر تشدد کے طریقہ کو چھوڑ کر عدم تشدد کے طریقہ کو اختیار کر لیا۔
۱۹۴۷ کے بعد کے ہندوستان میں بھی یہی معاملہ ایک اور صورت میں پیش آیا۔ نئے جمہوری نظام میں مسلمانوں کو تعصب اور زیادتی کی شکایت ہوئی۔ انھوں نے دوبارہ لفظی جنگ کی صورت میں حقوق طلبی کی جد و جہد شروع کر دی۔ پچاس سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ پر شور جد و جہد بے پناہ قربانیوں کے باوجود نا کام رہی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues