Analogy is the weakest form of argument.
الرسالہ، جون ۱۹۹۵، صفحہ ۴۶
وہ اتنا زیادہ نروس ہوئے کہ انھوں نے خود اپنے آپ کو مارڈالا۔
میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ کسی چیز کو وقار کا مسئلہ بنانا سراسر ہلاکت ہے ، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔ آدمی پر لازم ہے کہ جو چیز جس درجہ کی ہے اس کو اسی درجہ میں رکھے، کسی چیز کو اس کے واقعی درجہ سے بڑھانے ہی کا یہ مہلک نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ چیز وقار کا سوال بن جاتی ہے۔ اگر چیزوں کو ان کے واقعی درجہ میں رکھا جائے تو کبھی وہ وقار کا سوال نہ بنے جو افراد اور قوموں کو خودکشی کے مرحلہ تک پہنچا دیتا ہے۔
رشی کیش میں چند دن گزار کر میں دہلی واپس پہنچا تو خیال آیا کہ رشی کیش ہندوستان کا روحانی مرکز ہے اور دہلی ہندوستان کا سیاسی مرکز۔ رشی کیش میں ہر طرف روحانی سکون کا ماحول تھا، دہلی میں ہر طرف سیاسی اضطراب کا ماحول۔ ملک میں یہ دونوں دھارے اسی طرح الگ الگ بہہ رہے ہیں جس طرح پریاگ (الٰہ آباد) میں گنگا اور جمنا کا پانی الگ الگ بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ آج ملک کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ یہ دونوں انسانی دھارے ایک دوسرے میں مل جائیں، روحانیت میں سیاسی آفاقیت پیدا کی جائے اور سیاست کو روحانی غسل دے دیا جائے۔ دو دھاروں کے اسی ملاپ میں ہندوستان کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues