Al-Risala · January 1995 · page 33

A journey to hell and back again

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۳

اس پر تعمیر کا سن ۱۹۵۷ لکھا ہوا تھا۔ مسجد کشادہ تھی۔ مسجد سے متصل ایک کمرہ تھا جس میں امام کا دفتر تھا۔ اس میں میز کرسیاں بھی ہوئی تھیں۔ میز کے اوپر ٹیلی فون رکھا ہوا تھا۔ نمازیوں کی اکثریت کے سر پر ٹوپی نہ تھی۔ امام نے نماز ختم کی تو اجتماعی دعا کے بغیر اٹھ کر اپنے کمرہ میں چلے گئے۔ اس قسم کی چیزیں ہندوستان میں اجنبی سمجھی جائیں گی۔ مگر عرب دنیا میں اس قسم کی چیزیں عام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہی جھگڑے صرف برصغیر ہند میں پائے جاتے ہیں۔ عالم عرب میں اس قسم کے جھگڑوں کا کوئی وجود نہیں۔

اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کچھ عرب حضرات سے میں نے کہا کہ عبادت میں کچھ ارکان ہیں اور کچھ آداب۔ ارکان میں کوئی اختلاف نہیں۔ مگر آداب کے بارہ میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جب احادیث جمع کی گئیں اور یہ اختلافات سامنے آئے تو محدثین نے ان کو توسع پر محمول کیا اور کہا کہ اس پر عمل کر لو تب بھی ٹھیک ہے، اور اُس پر عمل کر لو تب بھی ٹھیک ہے۔ مگر فقہاء نے کہا کہ الحق لا یتعدد حق کئی نہیں ہو سکتا، اس وقت عالم اسلام، بڑی تقسیم میں دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ عرب ملکوں میں محدثین کا نقطہ نظر مقبول ہوا۔ اور برصغیر ہند میں فقہاء کا نقطۂ نظر پھیلا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں محدثین کا نقطۂ نظر ہی درست ہے۔ اور اگر عرب دنیا کی طرح، برصغیر میں بھی محدثین کا نقطہ نظر آ جائے تو تمام غیر ضروری جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔

قاہرہ میں عربوں کی ایک مجلس تھی۔ ایک صاحب نے کہا کہ قرآن لغت عرب میں اترا۔ اور حدیث کی زبان عربی ہے۔ میں نے کہا کہ اکثر علماء اس قسم کی باتیں کہتے ہیں۔ مگر زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ قرآن لغت انسان میں اترا۔ لغت انسان میں لغتِ عرب شامل ہے۔ مگر لغت عرب میں لغت انسان شامل نہیں۔

پھر میں نے کہا کہ لغت عرب لغت الفاظ ہے اور لغت انسان لغت معانی۔ مثلاً آپ حدیث میں پڑھتے ہیں: من قال لا اله الا الله دخل الجنة۔ لغت عرب کا تصور ذہن میں ہو تو یہاں آپ قول کو تلفظ کے معنی میں لے لیں گے، کیوں کہ قال کا مطلب یہی ہے۔ لیکن اگر لغت انسان کا تصور ذہن میں ہو تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ آدمی جب اللہ کے الہ واحد

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page