Al-Risala · January 1995 · page 34

A journey to hell and back again

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۴

ہونے کی حقیقت دریافت کر لے اور اس کا اظہار اپنی زبان سے کرے تو وہ ایک زلزلہ خیز تجربہ کا لسانی اظہار ہوتا ہے نہ کہ محض کچھ حروف کا تلفظ۔

اسی طرح بخاری کے آخر میں جب آپ پڑھیں گے کہ کلمتان خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان تو اس کو لغت عرب میں سمجھنے کی صورت میں آپ اس کو لفظی ورد کے طور پر لے لیں گے۔ مگر جب آپ اس کو لغت انسان کے طور پر لیں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ اللہ کی عظمت و قدوسیت کا ادراک ایسی چیز ہے جو روح انسانی میں ہلچل پیدا کر دینے والا ہے۔ ایسی حالت میں مذکورہ کلمہ سادہ طور پر صرف تلفظ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ وہ ایک روحانی انقلاب کا لفظوں میں ڈھل جانا ہے۔

قاہرہ کے قیام میں یہاں کی کوئی چیز دیکھنے کے لئے نہ جاسکا۔ سارا وقت عربوں کے ساتھ گفت گو اور سوال و جواب میں گزرا۔ ایک عرب نوجوان جو الرسالہ مشن سے گہرے طور پر متاثر ہیں انھوں نے کہا کہ الرسالہ مشن سے واقفیت سے پہلے ہمارے ذہنوں پر سازش کے انداز میں سوچنے کا طرز فکر چھایا ہوا تھا ( (کانت تسيطر علينا فكرة المؤامرة) مگر اب ہم خدا کے فضل سے اس فکری مصیبت سے نکل چکے ہیں۔ اب ہم دعوتی انداز میں سوچتے ہیں۔ اب ہم کو دنیا امکانات اور فرص سے بھری ہوئی نظر آتی ہے، جب کہ اس سے پہلے یہ دنیا سازشوں اور مشکلات سے بھری ہوئی دکھائی دیتی تھی۔

عربوں کی ایک مجلس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل کچھ حضرات کی پسندیدہ تعبیر یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اسلام کو مکمل طور پر اختیار کریں۔ يجب علينا ان ناخذ الاسلام کل) ، مگر یہ طریقہ سنت رسول سے ثابت نہیں۔ حضرت عائشہ رض کہتی ہیں کہ : ماخیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بين امر ين الا اختار ایسرہما۔ اس روایت کے مطابق ، اعسر کو چھوڑنا اور ایسر کو لینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ مگر ان لوگوں کا قول اس کے خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو امر میں سے ایک کو لیتے تھے اور یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بیک وقت دونوں کو لینا چاہئے (فكان الرسول ياخذ احد الامرين وهم يقولون علينا ان نأخذ كلا الامرين)

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page